تنقید۔بنیادی مباحث  

(Basics Of Criticism)

 تخلیقی عمل مبہم،پیچیدہ اور پراسرار عمل ہے۔اس کے ابہام،پیچیدگی اور پراسراریت کی دریافت و بازیافت ایک مشکل امر ہے۔لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر  تفکر کے در بھی وا نہ کیے جائیں اور ان راستوں کی کھوج بھی نہ کی جائے جن پر چل کر تخلیقی عمل کے بعض پراسرار گوشوںکو کسی حد تک بے نقاب کیا جا سکے۔ چناں چہ تنقید یہ بیڑا اٹھاتی ہے اور تفکر کی وہ راہ فراہم کرتی ہے جو تخلیقی عمل کو سمجھنے میں معاونت کرتی ہے۔ڈاکٹر وزیر آغا اس ضمن میں لکھتے ہیں:

 ’’تنقید ادب کی تقویم و تشریح کا نام ہے ۔لیکن کیا تنقید ادب کی پراسرریت کو پوری طرح گرفت میں لینے میںکامیاب ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے ؟غالباًنہیں،وجہ یہ کہ پراسراریت ، خدو خال اور حدود سے ماورا ہے۔اگر اس کو خدوخال عطا کر دیے جائیں یا اس کی حدود کا تعین ہو جائے تو پراسراریت از خود ختم ہو جائے گی چوں کہ یہ ختم نہیں ہوتی یا ختم نہیں ہو سکتی اس لیے تنقید صرف ایک حد تک ہی ادب کااحاطہ کرنے میںکامیاب ہوتی ہے۔‘‘   ۱؎

           تنقید تخلیقی عمل کی باز آفرینی کس حد تک کر پاتی ہے،یا نہیں کر پاتی یہ ایک طویل بحث ہے۔لیکن اتنا سب مانتے ہیں کہ اس کے بغیر تخلیقی عمل کوسمجھا نہیں جا سکتا۔ لفظ ’’تنقید‘‘ کا مصدر عربی لفظ ’’نقد‘‘ہے۔عربی اور فارسی میں اس عمل کے لیے انتقاد ،تنقاد اور تناقدہ جب کہ نقاد کے لیے منتقد جیسے الفاظ استعمال ہوتے رہے  ہیں۔لیکن تنقید کا لفظ عربی اور فارسی کی ادبی تاریخ میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتایہ لفظ خالصتاً اردو والوں کی ایجاد ہے۔اس کے اولین استعمال کے متعلق شمس الرحمن فاروقی ر قم طراز ہیں:

  ’’تنقید کا لفظ ہمارے یہاں سب سے پہلے مہدی افادی نے ۱۹۱۰ میں استعمال کیا،بلکہ انھوں نے ایک قدم بڑھ کر  ’’تنقیدعالیہ ‘‘کی اصطلاح بنائی، جو ا ن کے خیال میں کسی انگریزی اصطلاح High Criticism کا ترجمہ تھی۔‘ ۲؎

لفظ ’’تنقید‘‘عربی صرف و نحو کے اعتبار سے غلط سہی مگر اب اردو میں اس قدر رائج و مقبول ہے کہ اس کا نعم البدل ممکن نہیں۔     انگریزی میں تنقید کے لیے Criticismاور ناقد کے لیے Critic کے الفاظ ملتے ہیں۔لفظ Criticism کی اصل یونانی لفظ ”Krinein”   ہے۔جس کا مفہوم(To Judge)یعنی جانچنا ہے۔لفظ Criticismکی مزید توضیح پیش کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی لکھتے ہیں :

’’بعض محقیقن کی نظر میںCriticism کا مآخذ عربی لفظ غربال (چھلنی) ہے جو لفظ Garble کا معرب  ہے،غربال کی اصل لاطینی ہے اور اس کا تعلق لفظCret سے ہے جس کے معنی پھٹکنا یا چھان پھٹک کرنا ہیں۔‘‘   ۳؎

 تنقید کیا ہے؟یہ سوال نہ صرف عمل تنقید کی گرہ کشا ئی کرتاہے بلکہ اسی سوال میں تخلیقی عمل کے گہرے اور سر بستہ بھیدوں تک رسائی کا راز بھی مضمر ہے۔تنقید ی عمل کو  آسان عمل ہرگزتصور نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ایک مکمل علم کی حیثیت رکھتا ہے۔اور ہر علم کی طرح اس کے بھی بہت سے قواعد و ضوابط ہیں جن سے آگاہی کے بغیر اس ذمہ دارانہ عمل  سے پوری طرح انصاف ممکن نہیں ۔یعنی تنقید مختصراًوہ کلام ہے جو تخلیق کے متعلق تجزیاتی رائے پر مبنی ہوتا ہے ۔اس میں تعریف و تحسین ،تنقیص و تقریظ، تجزیہ و تحلیل ،محاسن و معائب،  فکری مواد و شعری بیان، فنی لوازم و شعری محاسن،تشریح و توضیح،توارد و اختراع،جدت و روایت،فصاحت و بلاغت ،رموز و علائم،ابلاغ و ترسیل اور قدر و مقام جیسے تمام اہم امور زیر  بحث آتے ہیں۔     تنقید کو عمل جراحی سے بھی تعبیر کیا جاتا رہاہے۔تاہم عمل جراحی اور تنقید میں یہ فرق بہرحال موجود ہے کہ جراحت کا عمل صحت مند انسان پر نہیں آزمایا جا سکتا اور جراحت  کے عمل کے لیے مرض کا قبل از جراحت معلوم ہونا از بس لازم ہے جب کہ تنقید تخلیق پر عمل جراحی اس لیے بروئے کار لاتی ہے تاکہ اس کی صحت مندی کا تجزیاتی ادراک کر سکے۔ بہ  قول آل احمد سرور:

 ’’یہ(تنقید) تخلیق پر عرف عام میںعمل جراحی بھی کرتی ہے مگر یہ عمل شاعرانہ طور پر ہوتا ہے اور اسی فضا(تخلیقی عمل)کے  اندر رونما ہوتاہے۔‘‘      ۴؎

اس عمل جراحی کے دوران بعض اوقات کچھ نقائص بھی ضرور سامنے آجاتے ہیں جن کی نشان دہی تنقید کے لیے لازمی ہو جاتی ہے۔اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تنقید خود  دائرہ تنقیص میں آجاتی ہے اور مورد الزام ٹھہرتی ہے۔تا ہم اس عمومی رائے سے کہ تنقید صرف عیب جوئی ہے، کسی طرح اتفاق نہیں کیا جا سکتا ۔لیکن ادب کی پوری تاریخ میں ہمیں یہ  مناظر بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں کہ تخلیق کار تنقیدی عمل سے کچھ زیادہ متفق نہیں رہے ۔جس کا سبب بڑی حد تک معائب و نقائص کی نشان دہی ہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بیش تر نقاد  بھی صرف تنقیص ہی کو تنقید تصور کر لیتے ہیں جب کہ فل الحقیقت تنقیداس تخلیقی عمل کو گرفت میں لینے کا نام ہے جس کے ذریعے کوئی ادب پارہ با معنی اور مسرت کی ترسیل کا باعث بنتا  ہے۔یہیں سے وہ سب بنیادی سوالات ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔جن کے جوابات کی تلاش تنقید کے وجود کاجوازفراہم کرتی ہے۔یہ بنیادی سوال کئی ہو سکتے ہیں جن میں سے چند یہ  ہیںکہ ادب پارہ کیا ہوتا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے؟ادب پارہ ترسیل کے فرائض کیسے سر انجام دیتا ہے؟ادب پارہ بامعنی کیسے بنتا ہے ؟ادب پارے سے مسرت کا حصول کیوں کر  ممکن ہوتا ہے؟وہ کیا عمل ہے جو ادب پارے کوایک غیر منقسم کل میںتبدیل کر دیتا ہے؟اور اس غیر منقسم کل میں عیوب و نقائص کیوں کر در آتے ہیں؟۔

یہی سب سوالات تنقید کے تجزیاتی عمل کی راہ ہموار کرتے ہیں انھی جوابات تک رسائی کے لیے تنقیدتخلیق کے کل کو اس کے اجزاء میں تقسیم کرتی ہے۔یہیں تخلیق ،تخلیق  مکرر کے مراحل طے کرتی ہے۔یہیں اجزاء کی تحلیل و ترکیب کا تعین ہوتا ہے۔یہیں خیال اور لفظ کی ثنویت و وحدت کے راز عیاں ہوتے ہیں۔یہیں حسن اپنے قیام کا انکشاف کرتا  ہے اور یہیں قبح تمام پردے چاک کر کے اپنی برہنگی ظاہر کرتا ہے۔یہی عمل عرف عام میں تنقید کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔    تنقید کے دائرہ کار کو کسی ایک ادب پارے تک محدود نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ تنقید ادب سازی کے عمل سے متعلق غور و فکر سے حاصل ہونے والی بصیرت کا علم ہے۔اس  لیے اس کے دائرہ کار میں تمام تر ادبیات کے ساتھ تاریخ،فلسفہ،عمرانیات،نفسیات،لسانیات،ہم عصر زندگی اور ثقافت و تہذیب سب شامل ہیں۔

تنقید بھی ادب کی طرح اپنے گہرے مفاہیم میں خیر کل کی تلاش ہے۔اور اس تلاش کے لیے جو روشنی درکار ہے اس کے اکتساب کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔یہ اکتسابی  عمل ایک مسلسل عمل ہے اس لیے یہ تصور کرلینا کہ تنقید اپنے اصول وضوابط طے کر چکی ہے،سراسر غلط ہے۔کیوں کہ ہر نیا عہد بلکہ ہر نئی انسانی بصیرت تغیرات کے ایک سلسلے کو راہ دیتی  ہے اور اس نئے سلسلے میں خیر کل کے معنی و مفاہیم میں بھی انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں سامنے آتی ہیں۔جن تک رسائی سابقہ علوم سے حاصل کی ہوئی روشنی میں ممکن نہیں رہتی۔نتیجتاًنئی  بصیرتوں تک پہنچنا لازم ٹھہرتا ہے۔لہذا تنقید کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ ہر لمحہ زندگی سے مکالمہ جاری رکھے اور اس کی ہر تبدیلی پرغور و فکر کرتے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھالتی  رہے ۔کیوں کہ تخلیقی عمل ہم عصر زندگی سے لا تعلق نہیں ہوتا اور اپنے ارد گرد موجود صورت حال سے نہایت غیر محسوس انداز میں اثرات قبول کرتا رہتا ہے۔اور تنقید آگے بڑھے نہ  بڑھے تخلیق آگے بڑھتی رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر تنقید گزشتہ تخلیقات کی گرہ کشائی میں تو کامیاب رہتی ہے۔ مگر معاصر ادبیات اس کی گرفت میں نہیں آتے۔اسی لیے تنقید کے  لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی رفتار کو تخلیق کی رفتار کے مساوی رکھے۔لیکن تنقید کے لیے یہ کام نسبتاً دشوار اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی رفتار تخلیق کی طر ح کسی وجدانی لہر کے برعکس علم کی پابند  ہوتی ہے۔اس لیے عموماً اس کی جست وجدان کی جست کے مقابلے میں کچھ کم پڑتی ہے ۔مگر اسے تنقید کی کمی ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔کیوں کہ علم کی رفتار وجدان کے مقابلے میںسست رو  سہی مگر دیر پا ضرور ہوتی ہے ۔المختصر وجدانی زبان کو یا علم کو علمی اور منطقی زبان میں پیش کر دینے کا عمل تنقید کہلاتا ہے۔

     تنقید کی اہمیت یہی ہے کہ وہ بالواسطہ ابلاغ کو بلاواسطہ ابلاغ میں بدل کر قاری تک اس علم اور مسرت کی رسائی ممکن بناتی ہے جو زندگی کی گہری تفہیم کے لیے لازم ہے  تخلیق ہمیشہ ابہام کی دھند میں ملفوف ہوتی ہے جس تک پہنچنا ہر قاری کے بس کی بات نہیں ہوتی تنقید ابہام کی اس دھند کو کم کرنے میں قاری کی معاونت کرتی ہے۔تاہم تنقید کی  اہمیت صرف اس عمل ہی میں نہیں ہے ۔بلکہ وہ قاری کے لیے یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ آخر ابہام کی دھند میں ملفوف تخلیق تک پہنچنا ضروری کیوں ہے ؟تخلیق سے کس بصیرت اور  مسرت کا حصول ممکن ہے؟نیز جو مسرت تخلیق سے حاصل ہو رہی ہے کیا وہ کسی دوسرے ذریعے سے ممکن نہیں؟یقیناًادب کا نعم البدل ادب کے علاوہ کچھ اورنہیں ہوسکتا۔ لہذا کسی  ایسے علم کا تصور ممکن نہیں جو ادبی بصیرت و مسرت کا قائم مقام کہلا سکے اور یہ بات پوری طرح صاف ہے کہ ادب سے حاصل ہونے والی بصیرت و مسرت کا کردار بہ حوالہ زندگی دیگر  تمام علوم سے مختلف ہے یہی اختلاف تنقید پوری وضاحت وصراحت کے ساتھ پیش کرتی ہے اس طرح زندگی سے ایک جمالیاتی فاصلے کے ذریعے تعلق استوار کرنے والے ادب کو  تنقید ایک علمی اور منطقی ارتباط کے حصول میں کامیابی سے پہنچا دیتی ہے۔یعنی تنقید ادب کے جمالیاتی حظ کو علمی معنوں کے ساتھ رائج کرنے میں اور زندگی سے اس کی وابستگی و پیوستگی  ثابت کرنے میں وہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے جس کے بغیر ادب کو ایک بامعنی سرگرمی قرار دینا کسی طور ممکن نہیں۔

     تنقید کی ایک اوراہم بحث تنقید اور ادب میں سے کسی ایک کی اولیت سے متعلق ہے۔اور یہی بحث تنقید اور ادب کے بنیادی تعلق کے مباحث بھی سمیٹتی نظر آتی ہے۔  ایک بات تو صاف ہے کہ ادب تخلیق کے بعد احتیاج تنقید سے بالا تر نہیں ہو سکتا۔عموماًتنقید کے دائرہ کار کو یہیںتک محدود تصور کیا جاتا ہے۔یعنی تنقید کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ادب  پارے کہ محاسن و معائب ،تشریح و توضیح اور مقام و مرتبہ کا تعین کرے ۔مگر بہ طور ایک شعور کے تنقید تخلیقی عمل کے دوران اور تخلیق سازی کے مراحل میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور کس  طرح معاون و مدد گار ہوتی ہے ان سوالات پر غور و خوض یقیناً تنقید کے دائرہ کار میں توسیع کرتا ہے ، ادب اور تنقید کے باہمی تعلق کی نئی جہات کو بھی سامنے لاتاہے۔اور ان دونوں  میں سے کسی ایک کے تقدم کا منطقی جواز بھی فراہم کرتا ہے۔ڈاکٹرسجاد باقر رضوی نے لکھا ہے :

  ’’تنقید اور تخلیق کے درمیان ایک اور رابطہ ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مشعل راہ ہوتے ہیںاس بحث  میں پڑے بغیر کہ ان دونوں میں کسے اولیت حاصل ہے ،اگر ہم ادب کی تاریخ کا جائزہ لیں توپتہ چلے گاکہ یہ دونوں  صلاحیتیں ایک دوسرے کے فروغ کے لیے ممدو معاون ہوتی ہیں ۔تنقیدی اصول ہمیشہ فنی تخلیقات کی بنیاد پر استوار  ہوتے اور عظیم فن پاروں سے اخذ کیے جاتے ہیں مگر ایک بار جب یہ اصول وضع کر لیے جاتے ہیں تو آئندہ فنی تخلیق کی  رہنمائی کرتے ہیں۔‘‘      ۵؎

قریباً ہر تخلیق کار تخلیقی سرگرمی کے دوران بہت سارے ایسے فیصلے کرتا چلا جاتا ہے۔جو اس کی تخلیق کے ابلاغ سے متعلق ہوتے ہیں،اور یہ فیصلے تخلیق کار کے اس شعور  کے عکاس ہوتے ہیں جسے اس کا تصور ابلاغ بھی کہا جا سکتا ہے ۔ہر تخلیق کار کے ذہن میں تخلیق سے متعلق بھی شعور کی کوئی سطح ضرور موجود ہوتی ہے۔اور وہ کسی نہ کسی خاص سطح پر اپنی  تخلیق کے ابلاغ کا متمنی بھی ہوتا ہے۔ یہی دو باتیں وجدانی وفور کے باوجود اس کے تخلیق کو شعور کا پابند رکھتی ہے اور وہ بیداری کی ارفع ترین سطح پر اپنی ہی وجدانی کیفیت کا تجزیہ بھی  کرتا رہتا ہے ۔اور یعنی تخلیق کو کسی بھی مرحلے پر شعور کی گرفت سے آزاد نہیں ہونے دیتا اور وہ ضروری ترامیم کرتا چلا جاتا ہے جو اس کے تصور ِتخلیق اور تصورِابلاغ سے متصادم ہوتے  ہیں۔ یہی عمل تخلیق مکمل ہونے کے بعد بھی اکثر تخلیق کار آزماتے ہیں ۔اگر اس سارے عمل پر غور کیا جائے تو اسے تنقیدی بصیرت سے خالی قرار نہیں دیا جاسکتا لہذا تخلیق کے بعد عمل  تنقید سے ایک مرحلہ قبل بھی تنقید موجود ہوتی ہے اس مرحلے میں وہ متن سازی میں تخلیق کے پہلو بہ پہلو اتنا ہی اہم کردار سر انجام دیتی ہے جتنا کہ خود تخلیقی عمل ادا کررہا ہوتا ہے۔ٹی  ایس ایلیٹ نے غلط نہیں کہا ہے کہ جب ایک تخلیقی ذہن دوسرے سے بہتر ہوتا ہے تو اکثر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو بہتر ہوتا ہے وہ تنقیدی صلاحیت رکھتا ہے ۔

     تخلیق ،تخلیق کار کے ان تجربات پر مشتمل ہوتی ہے جو وہ زندگی سے حاصل کرتا ہے۔مگر ایسا ممکن نہیں ہے کہ تخلیق کار زندگی کو جیسی کہ وہ ہے قبول کر رہا ہوکیوں کہ ایسی  صورت میں وہ زندگی سے مطمئن ہوتا ہے اور اطمینان تخلیقی محرک نہیں بن سکتا۔تخلیقی سرگرمی ادبی ہو یا غیر ادبی ہمیشہ ضرورت کے تابع ہوتی ہے جب کہ ضرورت بے اطمینانی سے پیدا  ہوتی ہے۔ ہم زندگی سے جس قدر غیر مطمئن ہوتے ہیں اسی قدر اسے بدلنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور تخلیق اسی جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔تخلیق کار ہمہ وقت زندگی کو تنقیدی نقطئہ نظر  سے دیکھتا رہتا ہے یہیں اس کے تصورِزندگی اور حقیقت زندگی کے بیچ وہ ٹکرائو پیدا ہوتا ہے جو تخلیق کا محرک بنتا ہے ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہیں وہ خام مواد تخلیق کار کو میسر آتا  ہے جو تخلیق کی صورت گری کرتا ہے ۔لہذا تنقید ایک تیسرے مرحلے پر بھی کار آمد ہوتی ہے جہاں وہ تخلیق کار کو تخلیق کے لیے خام مواد فراہم کرتی ہے ۔بہ ظاہر یہ تیسرا مرحلہ تخلیق پر تنقید  کے تقدم کا اظہار کرتا ہے مگر ذرا سا غور کرنے پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تمام تر انسان زندگی پر اس مرحلے والی تنقید کو استعمال کرتے ہیں مگر اس کے با وجود ان میں سے معدودے  چند ہی ادب تخلیق کر پاتے ہیں۔یعنی یہ تنقیدی مواد زندگی کے حوالے سے انسان کا نقطئہ نظر تو تشکیل دے سکتا ہے مگر تخلیق پیدا نہیں کر سکتا لہذا تخلیق کا تقدم بہ ہر صورت قائم رہتا ہے۔  البتہ پہلی صورت کی تنقید بعد میں بیان کی گئیں دونوں صورتوں کی تنقید پر فوقیت رکھتی ہے اور یہی تنقید تخلیق میں پہلی دونوں صورتوں کو بھی واضح کر دیتی ہے۔آل احمد سرور لکھتے ہیں:

  ’’تخلیقی ادب پر کوئی تنقید،تخلیقی ادب سے بے نیاز نہیں کرسکتی۔دونوں کے درمیان کوئی خلیج نہیں ہے تخلیقی ادب میں تنقیدی  شعور کی کار فرمائی ہوتی ہے۔تنقید اس کو واضح کر دیتی ہے۔‘‘          ۶؎

تنقید کے دائرہ کار کے حوالے سے اسے دو حصوں میں منقسم کیا جاسکتاہے۔جو بلا شبہ درج ذیل ہیں۔  ۱۔ نظری  ۲۔ عملی     پہلے حصے میں تنقیدادب سے متعلق تمام تر ضروری مباحث اٹھاتے ہوئے ان اصولوں تک رسائی کی کوشش کرتی ہے جن کی مدد سے تخلیق کو بہتر سے بہتر انداز میں سمجھا  جا سکے۔ادب کو سمجھنے کے لیے تنقید دیگر علوم سے مدد لیتی ہے اور بہ طور ایک انسانی سرگرمی کے زندگی میں اس کی اہمیت اور معنویت کا تعین کرتی ہے۔حسن،خیر اور صداقت کے  معیارات پر ادب کو پرکھتی ہے ۔تخلیقی عمل کو سمجھنے کے جتن کرتی ہے ۔اس قواعد تک رسائی کی کوشش کرتی ہے جو ادب کے پس منظر میں کار فرما رہتی ہے اور یہیں سے ان آفاقی اصولوں  تک پہنچتی ہے جن پر تمام ادبی فیصلوں کا دارومدار ہوتا ہے۔المختصر ادب سازی کے عمل پر تنقیدی غورو فکر کا نام نظری تنقید ہے۔

دوسرے حصے میں تنقید اپنے پہلے حصے میں قائم کیے گئے آفاقی معیارات پر کسی ادب ،کسی ادیب یا کسی ادبی معاملے کی جانچ پرکھ کرتی ہے۔یہ حصہ اصولوں کے استعمال  سے متعلق ہے۔کسی چیز کو اچھا یا برا قرار دینا عمل ہے جب کہ اچھے یا برے کی پرکھ کے معیا ر کا تعین نظر ہے۔عملی تنقید در حقیقت نظری تنقید کے مقرر کردہ اعلیٰ و ادنیٰ ، معیاری و غیر  معیاری ،حسین و قبیح ،وقتی و دائمی اور علاقائی و عالمی معیارات کے تناظر میں ادب پارے کو جانچنے ،پرکھنے اور تجزیہ کرنے کا کام کرتی ہے۔یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نظری  تنقید،عملی تنقید سے مبرا بھی ہو سکتی ہے لیکن عملی تنقید ہر صورت میں نظری تنقید کی محتاج ہوتی ہے ۔فہیم اعظمی رقم طراز ہیں :

 ’’تنقید کا ایک عمل اصولوں پر تنقید ہے اور دوسرا عمل ان اصولوں کی روشنی میں ادب پاروں کی تنقید کرنا ہے جسے عملی تنقید بھی کہا جاسکتا ہے دونوں کے لیے تنقید کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے لیکن دونوں الگ الگ عمل ہیں۔‘‘  ۷؎

تنقید کو کسی ایک محدود دائرے میں مقید نہیں کیا جاسکتا ۔اس کے اصول و ضوابط میں روز افزوں تبدیلی و ارتقا کا عمل جاری ہے۔بہ قول ایلیٹ ہر نئی نسل اپنے ساتھ نیا  تنقیدی شعورلے کر آتی ہے اور ہر نئے فن پارے کی تخلیق پچھلی قائم کردہ تمام درجہ بندیوں کو درہم برہم کر دیتی ہے ۔یعنی ہر نیا فن پارہ اپنے لیے نئے تنقیدی نظام کا متقاضی ہوتا ہے  اور ہر نئی نسل کے لیے پرانے تنقیدی معیارات اطمینان بخش نہیں ہو سکتے ۔کیوں کہ پرانے تنقیدی اصولوں کی روشنی میں آج کی تخلیقات کو پرکھنا مبنی بر انصاف نہیں ،بلکہ ذیادتی کے  مترادف ہے ۔جب کہ آج کے تنقیدی اصول و معیارات پر اگر قدیم ادب کو پرکھا جائے گا تو حیرت انگیز نتائج سامنے آسکتے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کی تنقید کا معیار  بہت بلند و ارفع ہے۔زمانی تغیرات نے تنقید کی صورت کو مزید نکھارا اور سنوارا ہے کئی دبستانوں کا سفر اور ان میں نت نئے اضافے ،کلاسیکی ،رومانوی،جمالیاتی ،تاثراتی ،نفسیاتی اور  مارکسی سے لے کر ساختیاتی ،پس ساختیاتی ،جدید اور ما بعد جدید دبستانوں تک کے مراحل تنقید نے جس خوش اسلوبی سے ادا کیے ہیں وہ اس کی لچک دار ہستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور  اس کی ہمہ گیر وسعت پر دلالت کرتے ہیں۔اور اس امر کی پیشن گوئی بھی کرتے ہیں کہ تا حال اس کی اختتامی سرحد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

اختتامیے کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تنقید اور تخلیق دونوں مل کر انسانی زندگی کی مثبت اقدار کی حفاظت کرتے ہیں ۔تیز رفتار تہذیبی تغیرات مثبت اور منفی قدروں کے  امتیازات کو اکثر مٹادیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انسانی زندگی خیر و شر کے ما بین معلق ہو کر رہ جاتی ہے یہی کیفیت ادب کی تخلیق کا سبب بنتی ہے ۔تاہم تخلیق کی تفہیم کے تمام مراحل اپنی  اصل روح کے ساتھ اسی وقت طے کیے جاسکتے ہیں جب تنقیدی مشعل ہماری رہنما ہو ۔ادب کے یہ دونوں اسالیب بنیادی طور پر خوب سے خوب تر کی انسانی تلاش کے دو روپ ہیں  جن کے ذریعے وہ اپنی ہمہ دم متغیر زندگی کے نشیب و فراز سے نبردآزما ہوتا ہوا اسے وہ استحکام بخشتا ہے جس کے بغیر انسان کو اشرف المخلوقات قرار دینا ممکن نہیں رہتا۔

حوالہ جات

۱۔وزیر آغا،ڈاکٹر:’’تنقید اور جدیداردو تنقید‘‘،کراچی،انجمن ترقی اردو،۱۹۸۹ئ،ص۱۸۔

۲۔شمس الرحمن فاروقی:’’تعبیر کی شرح‘‘،کراچی،اکادمی بازیافت،۲۰۰۴ئ،ص۶۹۔

۳۔ظہیر احمد صدیقی،ڈاکٹر،پروفیسر’’:تنقید و تحقیق ادبیات‘‘،لاہور،مجلس تحقیق و تالیف فارسی جی سی یونیورسٹی،سن ندارد،ص۱۔

۴۔آل احمد سرور:’’تنقید کیا ہے‘‘،ص۲۵۔۴۲،مشمولہ،شعور تنقید،اصغر علی شاہ جعفری(مرتبہ)،لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز،۱۹۶۸ع،ص۳۰۔

۵۔سجاد باقر رضوی،ڈاکٹر:’’مغرب کے تنقیدی اصول‘‘،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،طبع سوم۲۰۰۲ع،ص۶۔۷۔

۶۔آل احمد سرور: ایضاً ص۳۰  ۷۔ فہیم اعظمی:’’آرائ(۲)‘‘،کراچی،مکتبہء صریر،۱۹۹۷ع،ص۲۵۱۔

٭٭٭

قندیل بدر،

اسسٹنٹ پروفیسر،

سردار بہادر خان وومنز یونیورسٹی بلوچستان کوئٹہ،پاکستان

ای میل:qndil78@gmail.com   سیل نمبر:0336.8188864

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.