تلاش وتعبیر کا اجمالی جائزہ

         رشید حسن خاں نے دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں ،بربادیوں اور ہو لناکیوں کے پر آشوب دور کے بعد اپنی علمی زندگی کا آغاز کیا ۔یہ وہ زمانہ تھا جس میں ادب سے متعلق بہت زیادہ تلاش و جستجو نہیں ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ وہ ادب کا سنہرا دور تھا مگر کچھ محقق اورنقاد اس راہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔لیکن جس ادب کی ضرورت عوام کو تھی وہ انھیں نہیں مل پا رہا تھا۔اسی تلاش وجستجوکو ذہن میں رکھ کر رشید حسن خاں نے تحقیق و تدوین کے میدان میں قدم رکھا۔اور اپنے مشاہدے سے یہ بات ثابت کر دی کہ بغیر تحقیق و تنقید کے کوئی بھی ادب اپنے اصلی روپ میںوجودمیں نہیں آسکتا۔جس کی وقت کے ساتھ لوگوں کو بے حدضرورت ہوتی ہے۔ان ہی سب  باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے انھوں نے ادب کی صحیح اصطلاح کے ساتھ اس کے قواعد کو منظم کرنے پر زور دیا۔جس سے ادب کو ایک بلندمقام حاصل ہو جائے۔یہ کام تبھی اپنے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے جب تک اس میں نئی نئی تجاویز پیش نہ کی جائیں۔ان سب کے باوجود رشید حسن خاں کی تحریروں میں بعض جگہ مولانا محمد حسین آزاد،علامہ شبلی نعمانی،نیاز فتح پوری اور حالی کا نظریہ صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔انھوں نے ان کی تحریروںسے فائدہ اٹھا کر اپنی تحریروں میں جان پیدا کی۔اس طرح انھوں نے اپنی تحقیق و تنقیدکے ذریعہ ادب کو وہ معیارا ور اعتبار دینے کی کوشش کی جس کی یہ متلاشی ہے۔لیکن یہ کام اسی وقت اپنے عروج پر نظر آسکتا ہے ۔جب تک اسے اس کے اصل روپ میںعوام کے سامنے نہ لا یا جائے۔رشید حسن خاں اپنے علمی تحقیق سے حقائق کے بعض معروضی جانچ پرکھ،منطقی استدلال اور سائنسی تجربے کی روشنی سے ادب میں ایک نیا انقلاب برپا کر دینا چاہتے ہیں ۔جس سے مشرق و مغرب کے مابین پیدا ہونے والے اصول وضوابط اور اصول تحقیق سے ادبی دنیا میں ایک نیا جنون وجود میں آجائے۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کے تحقیقی حقائق کی جستجو اور آسانیوں نے لوگوں کے دلوں میں ایک چراغ روشن کیے۔ جس سے خاص وعام میں یہ فہم عطا ہوئی کہ کس طرح تحقیق کے فن اور تنقید ی سرمایہ ایک نئے انداز سے آسماں پر نمودار ہو سکتے ہیں۔اسلم پرویز رشیدحسن خاں کی تحقیقی و تنقید ی لیاقت اور صلاحیت کی وضاحت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

               ’’تحقیق اور متنی تنقید رشید حسن خاں کے دو خاص میدان ہیں۔انھوں نے نہ صرف یہ کہ اعلا پایے کی تحقیق اور تنقید کے نمونے ہمارے سامنے پیش کیے بلکہ تحقیق اور متنی تنقید کے اصول وضوابط پر کتا بیں بھی تالیف کی ہیں۔اس طرح وہ تحقیق اور عملی تحقیق دونوں کے مرد ِ میدان ہیں ۔ان کے تحقیقی قول و عمل میں تضاد ڈھونڈنکالنا مشکل ہے اور یہی در اصل کسی شعبہ ٔ علم میں خصوصی مہارت کے صحیح معنی ہیں۔اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ تھیوری کے تو بڑے ماہر ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر جب وہ خود کچھ کرنے بیٹھتے ہیں تو کوئی مثالی کام انجام نہیںدے پاتے۔دوسری طرح کے لوگ وہ ہیں جو خدا داد صلاحیت کے بل پر اچھا کام تو سر انجام دے لیتے ہیں لیکن نئے کام کرنے والوں کی تربیت کی صلاحیت ان میں نہیں ہوتی ۔رشید حسن خاں کا امتیازیہی ہے کہ دونوں محاذوں پر چاق و چوبند ہیں‘‘    ۱؎

              علم و ادب کی دنیا میں رشید حسن خاں کئی اعتبار سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔یہ ماہر لسانیات کے ساتھ قواعد اور املا پر اپنی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔گرچہ یہ شاعر نہیں لیکن ان کی شعر فہمی قابل ذکر ہے۔جس سے ان کی تحریروں میں بلا کا بانکپن دیکھا جا سکتا ہے۔بیسویں صدی کے نصف آخری دہائی میں تحقیق و تنقید کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ان میں رشید حسن خاں کا نام ممتاز ہوگا۔یہ تنقید و تحقیق کے درمیان حائل ہونے والے ان تحریری فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جن میں تنقیدی صداقت ،تنقیدی تعبیرات کے ذریعہ کچھ نئے جواز تلاش کرنے کی جدو جہد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تنقید کے میدان میں ایک ہی مسئلہ کو دو نقاد دو طرح سے پیش کرتے ہیں لیکن وہیں تحقیق کے نقطہ نظر سے بات کی جائے تو اس میں نقاد نہیں ملتے ۔کیوں کہ تحقیق ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جس میں ہر طرح کے تحقیق کی گنجائش ہوتی ہے اور اس سے ان میں نئی نئی دریافتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ایسی صورت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سی حقیقت کتنے پردوں میں چھپی ہوئی ہے اور ان کا آپس میں تعلق اتفاق اور اختلاف سے بھی ہو سکتا ہے۔اس کے بر عکس اگر رشید حسن خاں کے رجحان کو ترقی پسندتحریک کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں تضاد پایا جاتا ہے ۔کچھ ماہرین یہ مانتے ہیں کہ ان کا شروعاتی دور اس تحریک سے جڑاہوا تھا۔مگر بعد میں اس سے الگ ہو گیے۔اس سے الگ ہونے کی وجہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ اس تحریک کا عوامی سطح پر زیادہ زور نہیں تھا۔اس کے بڑے بڑے رہنما اپنی ذ ہنی اور عملی زندگی میں مکمل طور پر سرمایہ دارانہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ ترقی پسند تحریک سے بعد میں علیٰحدہ ہو گیے۔

            ’’تلاش وتعبیر‘‘رشیدحسن خاںکے تنقیدی مضامین کا پہلا مجموعہ ہے جو 1988میں شائع ہوا۔ اس میں کل سترہ مضامین شامل ہیں۔جس کا پہلا مضمون ’دوہرا کردار‘ہے۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت زیادہ تضاد ہے ۔اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ دہلی یونیورسٹی میں فرقہ وارانہ موضوع پر ایک سمینار منعقد ہوا۔جس کا مقصد یہ تھا فرقہ وارانہ فسادات سے عوام وخاص کو بچایا جائے اور انھیں یہ تاکیدکی گئی کہ ایسی باتوں سے پر ہیز کریں ۔جن سے سماج میں بگاڑپیدانہ ہو ۔اس کام کے لیے ایسے استادوں،شاعروں اور ادیبوں کو چنا گیا،جو اس کام کو صحیح طریقے سے انجام دے سکیں ۔مگرافسوس کہ یہ اپنے فرض سے ایک دم پیچھے ہٹ گیے۔جب کہ عوام کو سب سے زیادہ اعتبار انھیں لوگوں پر تھا ۔مگر یہ اپنے کام کو بخوبی انجام نہیں دے پائے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤںاور مسلمانوں میں دوریاں بڑھنی شروع ہوگئیں اور آج یہ ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن بن بیٹھے ہیں۔اگر یہ استاد،شاعر اور ادیب اپنے فرائض کو اچھی طرح سے نبھا پاتے اور اپنے ضمیر کونہیں بیچتے تو شاید ہندوستان کی تصویر کچھ اور ہوتی۔بعض مقام پر یہی تینوں عوام کو یہ سبق پڑھاتے ہیں کہ سبھی کے ساتھ بر ابر کا سلوک کرو ۔اگر کسی پر ظلم و ستم ہو تو اس کے خلاف مشترکہ طورپر اپنی آواز بلند کریں ۔مگر وہی سب بعد میں کچھ پیسوں کی لالچ میں آکر اپنے ضمیر تک کو نیلام کر دیتے ہیں۔اگر ہندوستانی سماج میں استاد کے حوالے سے بات کی جائے تو انہیں سب سے اعلیٰ سمجھا جاتا ہے ۔یہ استاد اپنے سبھی طالب علموں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہمارا قلم ضمیر کی آواز کے نقش و نگار کو صحیح ڈھنگ سے نبھاتا ہے۔جو دولت اقتدار اور گروہ بندی کے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ نئے تجویزتلاش کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔سبھی استاداپنے طالب علموں کو سچ بات بولنے کی تاکید کرتے ہیں اور یہ کہتے پھرتے ہیں کہ سچ بولنے والوں کودنیاہمیشہ سزا دیتی ہے۔ یہ مضمون در اصل ان لوگوں کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ جو انتہائی معمولی قیمت پراپنا قلم اور اپنا ذہن بیچنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔رشید حسن خاں نے یہ بات بیسویں صدی کی آٹھویں دھائی میں کہی تھی۔ٹھیک ایسا ہی نظارہ آج کل ہندوستان میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔جس میں ہر کوئی تھوڑے سے فائدے کی خاطر اپنے کردار کو نیلام کر دینا چاہتاہے۔دہرے کردار کی ایک خوبی یہ بھی دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے اظہار کے وسیلے کو بے حد پر فریب انداز میں بیان کرتا ہے ۔جس سے اس کے مزاج کی منافقت برقرار رہے۔ اور قاری کچھ سوچنے پرمجبور ہو جائے۔

            اس مجموعہ کا دوسرا مقالہ ’محمد علی جوہر:ایک جذباتی رہنما‘ہے۔رشید حسن خاں نے اس مضمون میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ محمد علی جوہر ایک ایماندار ،اخلاص پرست،جاں نثاری،سچائی اور سرفروسی کے علمبردار انسان تھے۔یہ ہندوستانی سیاست اور مسلم قوم دونوں کے لیے فخر کی بات ہے کہ انھوں نے اپنی تقریروں کے ذریعہ قوم میں ایک جذباتی رو پیدا کر دی تھی۔جس سے یہ بکھری ہوئی قوم ایک پلیٹ فارم پر آجائے ۔ہندوستان کے مسلم معاشرے میں جذباتیت کاجو عمل و دخل پایا جاتا ہے۔اس کی کہیں نہ کہیںجھلک ان کے یہاں دیکھنے کو مل جاتی ہے۔رشید حسن خاں نے اس مضمون میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح مغلیہ سلطنت اپنے زوال کی طرف بڑھ رہی تھی، کچھ ویسا ہی نظارہ آج کل ہندوستانی سیاست میںمسلم رہنماؤں کا دیکھا جا رہاہے۔ان کی اس میدان میں کم رہنمائی اس بات کی علامت ہے کہ یہ معاشرہ رفتہ رفتہ اپنے حاشیہ پر آکھڑاہو جائے گا ۔جس کا ہندوستانی سماج میں کوئی نام لینے والا بھی نہیںبچے گا ۔اس کے بر عکس خلافت تحریک کے تحت مولا نا محمد علی جوہر نے جس تجویذکا آغاز کیا تھا ۔اس سے آہستہ آہستہ لوگ جڑنا شروع ہو گئے تھے ۔ ابتدا میں اس تحریک کا جو رول تھا اس پریہ صحیح چل رہے تھے۔ لیکن بعد میں کہیں کہیں مولانا کی تقریر جذباتی ہو جانے کی وجہ سے عوام کو اس کا خمیازہ بھی اٹھاناپڑا ۔ان کے عہد سے شروع ہوئی سیاست دھیرے دھیرے خرابی کی شکل اختیار کرنے لگی۔مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کے تقریباًڈھائی سو سال پہلے شروع ہوئی یہ خرابی ،آج دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔

           ’جوش کی شاعری میں لفظ اور معنی کا تناسب‘کے عنوان کو رشید حسن خاں نے اپنی کتاب میں شامل کیا اور ساتھ ہی ساتھ ان کی شاعری پر طنز بھی کیا۔ان کا ماننا ہے کہ جو ش نے بعض جگہ ایسے الفاظوں ،استعاروں اور تشبیہوں کا ذکر کیا۔جس سے ان کی شاعری میں وہ چاشنی پیدا نہیں ہو پائی جس کے وہ مستحق تھے ۔پھر بھی جوش اپنے کلام میں لفظی اسقام کا استعمال کثرت سے کرتے تھے۔جس سے ان کے اشعار کی شکل و صورت اور معنویت دونوں بری طرح مجروح ہو جاتی تھی۔بعض جگہ لفظوںکوا کٹھا کرنے کی دھن میں وہ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ ایک شاعر کے لیے صحیح و غلط، مناسب اور غیر مناسب پر نظر رکھنا ضروری ہے یا نہیں۔ان سب نظریات سے پرے جوش کے کلا م کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ شروع میں میر انیس اور نظیر اکبرآبادی سے متاثر رہے ہونگے۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے نظیر کے کلام سے لفظوں کی کثرت اور انیس کے یہاں سے تشبیہوں اور استعاروں کی جگمگاہٹ لے کر اپنی تحریروں میں منظر نگاری پیداکی۔جس سے ان کی شاعری میںبعض جگہ ایک نیا آہنگ پیدا ہو گیا۔علاوہ ازیں جوش کے ساتھ ایک بڑی مشکل یہ بھی تھی کہ انھوں نے باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا تھا ،بلکہ ایسی طبیعت پائی تھی جو کم ہی لوگوں کو میسر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ان کے اندر سنجیدگی کم اور سوچ و فکر دور کی نسبت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ قدرت نے انھیں شعر گوئی کی صلاحیت سے مالا مال کیا۔ ان کی فطرت میں وہ صلاحیت اور قوت تخیل بھی شامل تھا ۔جن کی وجہ سے وہ ہر مناظر اور مظاہر کے ذیل میںپیدا ہونے والی جزیات نگاری کو بڑی آسانی سے پہچان لیتے تھے۔

          رشید حسن خاں نے’ فیض کی شاعری کے چند پہلو‘مضمون میں فیض کی شاعری کے بعض پہلومیں جو کمیاں اور خوبیوںدیکھیں۔ان کی تصدیق پورے وثوق کے ساتھ بیان کر دیں۔ جس سے ان کے تغزل کا رنگ وآہنگ آہستہ آہستہ عوام کے دلوں میں بیٹھ جائے اور قاری اسی رنگ وروپ میں ڈھل کر اپنے لیے کچھ نئے راستے تلاش کرسکے۔فیض کا یہی طرز بیان اور خوبی انھیں دوسرے شاعروں سے امتیازی وصف عطا کرتی ہے۔جس سے ان کی شاعری میں تعبیرات کی ندرت اور تشبیہوں کی جدت کو خاص مقام حاصل ہوجاتا ہے۔رشید حسن خاں نے فیض کی رومانیت اور اشتراکیت سے دلچسپی کو ان کی ذہنی اپج بتا یاہے۔جس کا نمونہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری کا سفر رومانیت سے شروع کیا اور دھیرے دھیرے اشتراکیت کے ہنگاموں سے قریب ہوتے چلے گئے۔ ان کے مزاج میں انقلاب پسندی کا جو رجحان غالب تھا۔اس سے یہ اپنی بلندی پرجا پہنچے۔ فیض کی شاعری میں جو کمزور ترین پہلو تھے ۔رشید حسن خاں نے اس کی نشاندہی بھی کی ۔ جن میں زبان وبیان کے ساتھ ان کے کمزورپہلو کا احاطہ بھی کیا۔وہیں دوسری طرف انھوں نے ان کی شاعری کی خامیاں بھی گنائیں ۔ جس میں تشبیہوں اور استعاروں کا استعمال، زبان کی نکات سے نا آشنا اور بیان کے اسرار نے ان کے کلام کو دوبالا کر دیا ۔یہی وجہ ہے کہ فیض کے کلام کو پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ان کی نگاہ میں یہ دنیا صرف قید خانہ اور انسانی تصور ماتم اورآزادی تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ انسانوںکو اپنی سچی بات کہنے کا پورا حق بھی دیتی ہے۔دوسری طرف اگر فیض کے مجموعوں کی بات کی جائے تو اس کی ایک الگ ہی پہچان ہے۔ جیسے’ نقش فریادی ‘میں جو غزلیں ہیں۔ ان میں ہر سطح پر کچا پن پایا جاتا ہے۔اسی طرح ’دست صبا‘ کی غزلوں میں کچھ ٹھہراؤ سا ہے تو’ زنداں نامہ ‘کی غزلیں سیاسی اشا ریت میں ڈوبی ہوئی معلوم ہوتی ہیں،وہیں ’دست تہہ سنگ ‘کی غزلوں میں مشکل پسندی،وقت طلبی،خشونت او بے رنگی کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی پڑتے ہیں۔ان سب مجموعوں کا احاطہ کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں فیض کی شاعری میں مختلف زمانوں کی پرچھائیاں اپنا عکس چھوڑ گئی ہیں۔خلیل ا لرحمٰن اعظمی فیض کی شاعری میں جمالیاتی احساس ونظریات کے بعض پہلو کا ذکر بڑے خوبصورت پیرائے میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

          ’’یہ کیفیت بذاتِ خود دوری کا احساس رکھتے ہوئے لذت سے چور ہے۔یہ وجدان اور جمالیاتی احساس کا رچاؤ جب فیض کو نئی منزل میں لے جاتا ہے تو سماجی حقائق کے اظہار میں بھی وہ فن کارانہ حسن کو بر قراررکھتے ہیں اور یہی بات اس بات کا ثبوت ہے کہ فیض کی شاعرانہ شخصیت کا نشو ونما مناسب طور پر ہوا ہے اور رومان سے حقیقت کی طرف ہجرت کرنے میں انھوں نے اپنی آواز کا رس اور اس کی شیرینی زائل نہیں کی۔’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘’رقیب سے‘’تنہائی‘’موضوع سخن‘’ہم لوگ‘’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘جیسی نظموں کی اشاعت نے اردو شاعری کو ایک نئے آہنگ سے آشنا کیا اور یہ طرز لوگوں کو ایسا بھایا کہ بہت دنوں تک دوسرے درجے کے شعر ا کا کلام فیض کے تجربات سے استفادہ کرتا رہا اور اس دور کی اکثر نظموںمیں انھیںنظموں کی گونج سنائی دیتی رہی۔فیض کے اسلوب بیان میں ایک طرف مانوس اور مروج سانچوں سے استفادہ ہے دوسری طرف اس میں کچھ تازہ عناصر انگریزی کی جدید شاعری کے اثر سے دخل کئے گئے ہیں اور ان دونوں عناصر کوفیض نے اس خوبی سے آمیز کیا ہے کہ ان کا ایک مستقل طرز بن گیا۔‘‘    ۲؎

          ’فانی ۔شہید احساس ‘ میں رشید حسن خاں نے فانی کی شاعری کے حوالے سے بات کی ہے۔انھوں نے ان کی شاعری کو غم آہنگ  سے تعبیر کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فانی کے یہاں جہاں ناامیدی اور مایوسی کی کا رگزاری دیکھنے کو ملتی ہے ۔وہیںدوسری طرف ان کی شاعری زندگی کے دائرے ابتدا سے الگ راہ پر چلتی ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔جس سے ان کی شاعری میںبعض جگہ دو طرح کے پہلو ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ان میں ایک کا رشتہ جہاں غم والی شاعری سے ہے تووہیں دوسرے کا تعلق ناامیدی و نامحرومی سے ہے۔ رشید حسن خاںکے خیال کے مطابق فانی اپنی شاعری میں جس قدردنیا سے بیزار نظر آتے ہیں۔ اس طرح کی بیزاری ان کی نظموں میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی نظموں کے مقابلے شاعری کو زیادہ ترجیح دی ۔علاوہ ازیں بعض محققوں کا خیال ہے کہ فانی اپنی زندگی میں حسن کے جلوؤں اور اس کی لذتوں سے کبھی محروم نہیں رہے۔جس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ انھوں نے اضطراب اور فطرت کے جز سے ہمیشہ اپنی طبیعت کو آراستہ کیا۔رشید حسن خاںکی تحقیق کے مطابق فانی کی زندگی میں کبھی کوئی غم نہیں آیا جو انھیں پریشانی میں مبتلا کرسکے۔اوراگر کبھی آیا تو وہ کچھ پل کے لیے ہی ان سے جڑا رہا۔اس طرح کہاجا سکتا ہے کہ فا نی کی شاعری میں فطرت کی دوربینی ، حیرت اور حسرت کے جو عناصر پائے جاتے ہیں۔ان میں کہیں نہ کہیں ان کے مزاج کا بہت بڑا رول رہاہے۔

          رشید حسن خاں نے اپنے مضمون ’چکبست بہ حیثیت نثر نگار اور بہ حیثیت نقاد‘ میں چکبست کی شاعری اوران کے بعض تنقید ی پہلو کی وضاحت کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ۔جس کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے ان کی سخن فہم نثر نگاری اور اعلیٰ تنقیدی شعور کو نہایت ہی عمدگی کے ساتھ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔رشید حسن خاں کی تحقیق کے مطابق یہ بات ہرخاص وعام جانتا ہے کہ چکبست ایک اچھے نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کے میدان میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے تھے۔ان کی شاعری میں ایک طرف جہاںمیر انیس کی شاعری کا عکس جھلکتا ہے تو وہیں دوسری طرف محمد حسین آزاد کی نثر کا نمایاں انداز بھی دیکھنے کو ملتاہے۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کے یہاں ان دونوں کی خصوصیات صاف طور پر اپنا اثر دیکھا رہی ہیں۔ اس کے بر عکس چکبست کی اصل پہچان’ مثنوی گلزار نسیم‘والے معرکہ سے مانی جاتی ہے۔معرکہ گلزار نسیم میں چکبست نے اپنے حریفوں کے مقابلے اپنی علمی سنجیدگی اور ادبی معیار کو خوب پھیلایا۔انھوں نے اس مثنوی کے متعلق اپنی علمی بحث کم لیکن تمسخر اور تضحیک کی پھلجھڑیاں کچھ زیادہ ہی چھوڑی ہیں۔جس کی وجہ سے ادب میں ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جن کے وہ مستحق تھے۔پھر بھی دوسری صنف میں ان کے کارناموں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

          سیماب اکبرآبادی کی حیثیت ایک با کمال استاد کے ساتھ ساتھ ایک قادرالکلام شاعر کی ہے۔انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ خاص وعام میں خوب جگہ بنائی ۔جن کی وجہ سے ان کے بہت شاگرد پیدا ہو گیے۔ان کے ان شاگردوں نے ان کی شاعری کو خوب پھیلایا۔جس کی وجہ سے ان کا کلام عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ادبا تک آسانی سے جاپہنچا۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیماب اکبر آبادی زبان و بیان کے لحاظ سے ادب میں اپنا ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ادب میں جس طرح دبستانِ دہلی،دبستانِ لکھنؤ کا بازار گرم تھا ۔اسی طرح انھوں نے بھی دبستانِ آگرہ کی بنیاد ڈالی ۔جن میں اس مفروضے کے مصنف اور مبلغ بھی شامل تھے۔اس مفروضہ دبستان میں شعراء کی کچھ امتیازی خصوصیات تھیں۔ جو اپنی شعری روایت کو خاکہ کی شکل میں تیار کرتے تھے۔رشید حسن خاں نے اپنے مقالہ ’سیماب اکبرا ٓبادی بہ حیثیت غزل گو‘ کے حوالے سے سیماب کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی کمیوں کی بھی نشاندہی کی ۔ان دونوں نظریات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان کی شاعری میں قوت فکر اور شاعرانہ صلاحیت کی جو خوبیاںہیں ۔اس سے ان کی بلند آہنگی کا پتہ چلتا ہے۔علاوہ ازیں جذبۂ شاعری ان کی طبیعت میں رچا بسا تھا۔ جس سے انھوں نے اصلاحی،اخلاقی اور افادی شاعری کا نعرہ بلند کیا۔

          ’جوہرکی شاعری‘پر رشید حسن خاں نے اپنے تنقیدی نظریات پیش کیے ہیں۔ان کی شاعری کا سرمایہ وہ غزلیں ہیں ۔جن میں  حب الوطنی اور قوم پرستی کی بلند آہنگی پائی جاتی ہے۔یہ جوش بیان سے معمور اپنے اسلوب سے شاعری کے دائرہ میں ایک نئی وسعت پیدا کردیتے ہیں۔جس سے زبان کی چستی و پرکاری میں ایک نیا آہنگ ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔مولانا محمد علی جوہر کے یہاں جذبے کی شدت اور صداقت دونوں موجود ہے۔اس لیے ان کے بعض شعروں میں شعلوں کی حرارت اور انسانی جذبہ کی روانی پائی جاتی ہے۔جو خاص وعام دونوںکے اندر جوش و خروش پیدا کرنے کی لیے کافی ہے۔ان کے بعض اشعارجس زمانے میں کہے گئے۔ اس دور میں حالات کی ہنگامہ آفرینی اور کہنے والے کی صداقت بیانی صاف طور پر قاری کو متاثر کرتی رہی ہوگی ۔رشید حسن خاں کا ماننا ہے کہ ان کے لب و لہجے میں جو جھنکار و آہنگ پایا جاتا ہے۔ وہ محض انداز بیان کا کرشمہ نہیں بلکہ لفظوں کا کھیل ہے۔جو لوگوں کے دلوں پر راج کرنے لگتا ہے۔یہ اپنے انقلابی شعروں سے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر لاکران میں اپنے حق کی آواز بلند کردینا چاہتے تھے ۔ان کی نگاہ میںسب سے بڑا انسانی فریضہ یہ تھا کہ کس طرح اپنے ملک وقوم کو ان ظالم حکمرانوں سے آزاد کرایا جائے۔جو رات دن ان کے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ان کا اپنے قوم کے لوگوں سے یہ مطالبہ تھا کہ اے سوئے ہوئے وطن کے باشندواب اٹھ جاؤ نہیں تو یہ حکمراں تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔

          جعفر زٹلی کے متعلق بعض تنقیدنگارو ں کے یہاں غلط رائے قائم تھی۔ اس لیے رشید صاحب نے اپنے مضمون’ جعفرزٹلی‘ میں دوسروں کی رائے کو در کنار کرتے ہوئے اپنے دلائل پیش کئے ۔جعفر زٹلی کے دیوان کے متعلق جو افواہیںغالب تھیں کہ اس میں صرف فحش کلامی کی گئی ہے۔اس وجہ سے بعض تذکرہ نگاروں اور تنقید نگاروں نے بھی ان کی شا عری و نثر کو غلط سمجھ کر ان سے دوری بنا ئی، اور کسی نے ان کے فحش کلام پر غو روفکر تک نہیں کیا کہ کیا یہ واقعی دشنام اور پھکڑ کلام پیش کرتے تھے۔لیکن وہیں رشید حسن خاں نے جب ان کے دیوان کی تحقیق کی تو زیادہ تر باتیں جھوٹی اور بے بنیاد معلوم ہوئیں۔اس طرح انھوں نے ان کے کلام کے اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ۔جن میں سماجی حقیقت نگاری،ہجو، طنز،ظرافت،تمسخر اور سنجیدگی سب کچھ دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ان سب پہلوؤں کے علاوہ جعفر زٹلی نے اپنے کلام میں کہیں کہیں ہندی اور غیرہندی زبانوں کے لفظوںکا استعمال بڑی کثرت سے کیا۔جن میں اردو کے قدیم الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال بڑی خوبی سے کیا ۔جس کی وجہ سے ان کی تحریریں میں بعض مقامات پر ان دونوں کا میل دیکھنے کو مل جاتاہے۔اس کے بر عکس یہ لفاظی کے معاملہ میں نظیر اکبر آبادی سے کسی قدر کم نہیں معلوم ہوتے، تووہیں دوسری طرف سماجی حقائق پر طنزکرنے اور معاشرے کی بدحالی کا نقشہ کھینچنے میں سودا کے زیادہ قریب تر نظر آتے ہیں۔ شہر آشوب نگاری میںجعفر زٹلی کی اپنی ایک الگ پہچان تھی ۔انھوں نے شہر آشوب کی تعریف میں کئی نظمیں بھی کہیں۔جن کی روشنی میں رشید حسن خاں کا خیال ہے کہ انھیں پہلا شہرآشوب نگارشاعر تسلیم کیاجانا چاہیے۔علی جاوید جعفر زٹلی کے زبان کے رد عمل کے متعلق اپنی رائے یوں قائم کرتے ہیں:

           ’’کہا جاتا ہے کہ ہر رد عمل اس کے عمل کے برابر ہوتا ہے یعنی جس شدت کا عمل ہوگا اسی شدت کا اس کا عمل بھی ہوگا۔پہلی صورت میں زٹلی کا لسانی رد عمل بھی ان کے ذہنی اور حسی تجربے کی شدید نوعیت کا مظہر ہے ور نہ وہ اپنے اظہار میں سیدھی سادی سامنے کی زبان کا استعمال کیوں نہیں کرتے۔ان کے متعدد اشعار اور مصرعے سلاست بیان کے حامل ہیں۔اس کے بر عکس ان مثالوں کی وافر تعداد ہے جن میں زبان کو بہت توڑ مروڑکر پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اچھی خاصی زبان کو انھوں نے CARICATURE(بگاڑی ہوئی تصویر)میں بدل دیا ہے۔جب کہ دوسری طرف پورے سماج ہی کو انھوں نے کارٹون بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔جس میں مسرت کا پہلو کم ہے عبرت کا پہلو زیادہ ہے۔‘‘       ۳؎

           ’مومن کی پیچیدہ بیانی‘میں رشید حسن خاں نے مومن کی غزل گوئی کے حوالے سے بات کی ہے۔ان کے خیال کے مطابق مومن کے کلام میںبعض جگہ ناسخ کا رنگ سخن اور تاثرات صاف طور پر دیکھے جاسکتے ہے۔جس سے مومن کی شاعری ایک نئے وصف کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی دیکھا ئی دیتی ہے۔ ان کی شاعری جہاں ایک نئے شخصیت کی تہہ داری،نظرکی بلندی اور ذہانت کا پتہ دے جاتی ہے۔وہ چیز دوسرے شاعروں کے یہاں دیکھنے کو نہیں مل پاتی۔رشید حسن خاں کے مطابق مومن کے یہاں جو معنی آفرینی کا انداز پایا جاتا ہے۔ اس میں بڑی حد تک ناسخ کا ہاتھ رہا۔انھوں نے ناسخ کے کلام سے فائدہ اٹھا کراپنے کلام میں بیش بہا اضافہ کیا۔ناسخ کی اس خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی ریایت لفظی اور بے جا صنعت گری سے اپنے کلام کو پاک کیا۔اگر بعض شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے تو مومن کا مقام ادب میں ناسخ کے بعد آتا ہے ۔لیکن مومن کی شاعری کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ ناسخ سے دو قدم آگے دیکھائی دیتے ہیں۔مگر وہیںدوسری طرف غالب کے انداز بیان کی بات کی جائے توان کے یہاں بہت زیاد ہ پیچیدگی پائی جاتی ہے۔اس وجہ سے بعض شعرا غالب کے کلام سے فیضیاب ہو ناچا ہتے تھے۔ اگراسی طرح کی پیچیدہ بیانی مومن کے یہاں بھی ہوتی توشاید یہ غالب سے بڑے شاعر ہوتے۔جہاں تک مومن کے کلام کی بات ہے۔ ان کے یہاں پیچیدہ بیانی صرف لفظی ہے حقیقی نہیں۔اس طرح دیکھا جائے تو ان کے کلام میں انداز بیان کی وہ چاشنی نہیں ملتی جیسی ہونی چاہیے۔پھر بھی انھوں نے اپنے کلام میں ایسی نا ہمواری پیدا کی ۔جن میں زبان کی فصاحت اور بیان کی لطافت نئی خوبیوں کے ساتھ اپنا رنگ بکھیرتی ہو ئی آگے بڑھتی چلی جا تی ہے۔

          رشید صاحب نے ’دیوان حالی‘ کی اشاعت کے دوران جو مقدمہ لکھا۔ اسی کو بعد میں اپنی کتاب تلاش و تعبیر میں مضامین کی شکل میں شامل کر دیا۔ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی طرح حالی کی شاعری اور نثر کوااس انداز سے پیش کیا جائے ۔جس سے دوسرے فائدہ اٹھا سکیں۔علاوہ ازیں انھوں نے حالی کی شاعری کو تنقید ی تناظر میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا۔تاکہ ان کی شاعری ایک نئے روپ میں منظر عام پر آجائے۔رشیدصاحب دیوان حالی کا محاکمہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حالی نے اس میں قدیم و جدید کی جو غزلیں بیان کی ہیں ۔اس کی ادب میں اپنی ایک ضمنی حیثیت ہے۔ان کے دیوان میں جو نظمیں ملتی ہیں ۔وہ حبِ وطن کا جذبہ اوراصلاحِ ِقوم کا خیال رکھتی ہوئی آگے بڑھتی نظر آرہی ہیں۔ان سب باتوں کے علاوہ انھوں نے اپنے دیوان میں مرثیوں،قطعوں اور رباعیوں سے وہی حسن پیدا کیا۔ جس میں انسانی زندگی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مولانا الطاف حسین حالی کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح مسلم معاشرہ اپنی اصلاح پر گامزن ہو جائے اور ترقی کر کے خود کو دوسرے سماج کے برابر کھڑا کر سکے۔رشید صاحب کے خیال کے مطابق حالی نے مومن کا انداز بیان اور مصطفے خاں شیفتہ کے اثرات کو بڑی دلکشی کے ساتھ اپنے کلام میں پیوست کیا۔ ان دونوں نظریات کے باوجود انھوں نے اپنے استاد مرزاغالب کا طرز ادا لے کر اپنے دیوان کو ایک نئی بلندی عطا کی۔پروفیسر آل احمد سرور حالیؔ کی شاعری کی بعض خوبیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          ’’حالی شاعری اور آرٹ کو قوموں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔وہ اس کے قائل نہیں کہ تہذیب کی ترقی سے شاعری میں زوال آجاتا ہے۔فنون لطیفہ تاثرات اور حسیات کی سوتی بستی کو جگاتے ہیں۔ان تاثرات کی بیداری سے زندگی میں وسعت و فراخی آتی ہے،قوتیں ،آرٹ ،ادب اور شاعری سے بے نیاز رہ کر اپنے لطیف حسیات کو کھونے لگیں گی۔ادب چونکہ ایک زمانے میں سستے جذبات کی عکاسی پر قانع رہا۔محض نقش نگینے بنانے اور جادو جگانے کے کام میں آتا رہا،تلخیوں کو بھلاتا رہا اور رنگین پناہ گاہیں تیار کرتا رہا۔اس لیے لوگ شعر کی ترقی کو زوال آمادہ تمدن کی پہچان سمجھنے لگے۔حالی کے وقت سے تنقید شعر وادب میں رہنمائی اور اصلاح کا کام شروع کرتی ہے۔تنقید کو اس کا حقیقی منصب ملتا ہے اور وہ تجربات کی قدروقیمت سے بحث کرنے لگتی ہے۔جو لوگ محض زبان کے معیار سے یا محض دبستانوں کی ریایت سے یا شرفا کے نطقہ ٔ نظر سے شاعروں کو پرکھتے تھے وہ تنقید کے حقیقی مفہوم سے نا واقف تھے۔‘‘  ۴؎

          ’کچھ دیا شنکر نسیم کے متعلق‘مضمون میں رشید حسن خاں نے دیا شنکر نسیم کی حالاتِ زندگی سے وابستہ بعض غلطیوں کی نشاندہی کی ۔ جنھیںچکبست نے تاریخ پیدائش،سال وفات ،بعض غلطیوںاور واقعات کے ساتھ پیش کر دیا ۔جس کی وجہ سے ادب میں ایک نیا چلن پیدا ہو گیا ۔اس لیے رشید صاحب نے ان غلط واقعات کی تصدیق کر کے انھیں درست کیا۔اور ان بے جا غلط فہمیوں کو دور کر کے اس کی صحیح اصلاح بھی کردی۔اس طرح انھوں نے مثنوی ’گلزار نسیم‘ پر ایک زبردست تحقیقی و تنقیدی مقدمہ لکھا اور اس کی تدوین کے ساتھ اس کی اصلی صورت میں شائع بھی کر وا دیا۔جو پنڈت دیا شنکر نسیم کی زندگی اور گلزار نسیم کا صحیح طور پر احاطہ کرتی ہے۔بعض تحقیقی روشنی میں ہم سب دیکھتے ہیں کہ رشیدحسن خاں نے مثنوی گلزار نسیم کی تدوین کر کے اس کو ایک نئی بلندی عطا کی ۔ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ہر خاص وعام کو اس کے صحیح الفاظ کے ساتھ اس کے تلفظ کی صحیح جانکاری مل جائے ۔ اس مثنوی کو لے کر لوگوں میںجو طرح طرح کے وہم پیدا ہو رہے تھے اسے دور کیا۔اس طرح یہ مثنوی ہر اعتبار سے لوگوں میں بہت مقبول و معروف ہوئی۔ لیکن چکبست نے اس کی غلط اصلاح کر کے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔جس کی وجہ سے رشید حسن خاں کو اس کے صحیح اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی۔

           ’معراج نامہ ناسخ‘میں رشید حسن خاں نے ناسخ کے والدین کے مسلک کے ساتھ ساتھ ان کی مثنوی پر اپنی نگاہ ڈالی ہے۔انھوں نے اپنی تحقیق کے مطابق ان نشاندہیوں کی تصدیق کی ہے۔جس میں ان کے والدین کی قبروں کو لے کر یہ بحث جاری و ساری تھی کہ وہ شیعہ مسلک سے تھے یا سنی مسلک سے۔وہی کچھ محققوں کا خیال تھا کہ ناسخ کے والدین سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔اس وجہ سے ان کا شروعاتی رجحان اس طرف تھا۔لیکن بعد میں ناسخ نے شیعہ مذہب کی طرف اپنا رکھ کر لیا اور زندگی کے آخری لمحہ تک اسی مسلک سے منسلک رہے۔ دوسری طرف رشید حسن خاں اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ مثنوی ’معراج نامہ ناسخ ‘کا ذکر قلیات ناسخ میں موجود نہیں۔اس میں صرف دو مثنویوں کا ذکر ملتا ہے۔ان میں پہلی مثنوی کا تعلق حضرت علی ؓ سے ہے تو دوسری مثنوی ’سراج نظم ‘ہے۔چوں کہ ناسخ کا رجحان زیادہ تر اپنی غزلوں اور نظموں کی طرف تھا۔جس کی وجہ سے ان کی مثنوی میں وہ جان پیدا نہیں ہو پائی جن کی انھیں امید تھی۔پھر بھی ان کی مثنوی معراج نامہ ناسخ دوسری مثنویوںکے مقابلے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔

           ’نقوش سلیمانی‘سید سلیمان ندوی کے مقالات کا مجموعہ ہے۔رشید حسن خاں نے اس کتاب کوآسانی کی خاطر چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔یہ سارے مضامین اپنے لحاظ سے ادب کی ذینت ہیں۔اس مقالات کے بعض مضامین میں اردو کے متعلق بحثیں کی گئی ہیں۔اور یہ بتلایا گیا ہے کہ کس طرح یہ زبان رفتہ رفتہ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔رشید حسن خاں نے اس مضمون میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سید سلیمان ندوی نے ’نقوس سلیمانی‘ کے شروعاتی حصہ میں لسانیات کے موضوع پر بحث کی ہے۔جو آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف راغب ہورہی ہے ۔ وہی دوسرے حصہ میں انھوں نے اردو اور ہندی زبان کے لفظوں کو لے کر تاریخی بحثیں کی ہیں۔ان کا ماننا تھا کہ کس طرح یہ ادب ایک دوسرے کے اوپر حاوی ہونے کے لیے نئے نئے پیترے بدلتا ہوا دکھائی پڑرہا ہے ۔اس مجموعے کے تیسرے حصے میں ان مضامین کو شامل کیا گیاہے۔ جس میں ادبی موضوعات اور بعض کتابوں کے مقدمات اپنی شگفتہ نگاری اور سخن فہمی کے باعث اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔اس کتاب کے چوتھے حصہ میں تلفظ کی تبدیلیوں اور ان میں دخل پانے والے دوسرے تغیرات خصوصاً عربی اور فارسی زبان کے لغت اور قواعد پر لکھی ہوئی کتابوں کی خاص نظر ثانی کی گئی ہے۔ان سب وجوہات کی روشنی میں سید سلیمان ندوی نے یہ صاف کر دیا تھاکہ اردو ایک زندہ اور خود مختار زبان ہے۔ جسے کبھی بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔

          ’زبان و بیان کے بعض پہلو ‘میں رشید حسن خاں نے شاعری کے حوالے سے بات کی ہے ۔اس میں انھوں نے لفظوں کے رکھ رکھاؤ ،مناسبات کے التزام اور انداز بیان کے پیچ و خم کو شاعری کے لیے ضروری قرار دیا ۔ان کی نظر میں الفاظ کی بندش اور محض مرصع سازی     بعض موقعوں پر مقصود ہے۔جو ادب میں اپنا ایک معیار رکھتی ہے۔مگر وہیں دوسری جانب انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان دونوں صنعت گری سے شاعری کو جتنا نقصان اٹھانا پڑا ۔شاید ہی کسی اور صنف کو ہوا ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ادب میں بہت سے شعرا انتخابِ الفاظ کو صحیح سلیقے سے پیش نہیں کر پاتے ۔جس سے اچھی خاصی نظمیں بے اثر ی کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔انھیںا سباب کو مد نظر رکھتے ہوئے رشید حسن خاں نے شاعری میں تشبیہہ،استعارہ اور صفتِ منتقلہ کے مناسب استعمال کی کچھ مثالیں پیش کی ہیں۔ اور شاعری میں ان غیر مانوس انداز بیان کو کس طرح درست کرنا ہے۔ اس کی وضاحت بھی بیان کر دی ہے۔بہر کیف انھوں نے ان چند صحت ِبیان اور حسن ِبیان سے نقطہ نظر کی خامیوں کی نشاندہی کی۔جن کی وجہ سے شاعری کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑ ا۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (۱)مناسب صفاتی الفاظ کا نہ ہونا۔(۲)غلط استعارے کا کثرت سے استعمال۔(۳)مرادف الفاظ میں سے صحیح لفظ کا انتخاب نہ کرنا۔(۴)فصاحت کلام کے لحاظ سے غیر منا سب الفاظ کا منتخب کرنا۔یہ سب وہ اجزا ہیں۔ جس کے بغیر اردو شاعری ادھوری مانی جاتی ہے۔

          ’ادب اور صحافت ‘میں رشیدحسن خاں نے اس بات کی طرف زور دیا ہے کہ یہ دونوں آپس میں تضاد رکھتے ہیں۔اگر کوئی شخص روزانہ اخبار کا پہلا صفحہ پڑھتا ہے تو اس کو اندازہ ہوتا ہوگا کہ اخباری خبروں اور ادبی تحریروں کے مابین کیسا فرق ہوتا ہے۔اخبار کا اڈیٹوریل اس لحاظ سے سب سے اہم ماناجاتا ہے ۔کیوں کہ یہ پورے اخبار کی جان ہوتا ہے ۔مگر دوسری جانب خبریں اس سے بالکل مختلف معلوم ہوتی ہیں۔رشید حسن خاں کا ماننا ہے کہ اگر کسی اخبار میں فساد سے متعلق کوئی خبر چھپتی ہے، تو اڈیٹراسی خبر کو ایک نئے موضوع کے ساتھ اڈیٹوریل کی شکل میں شائع کروا دیتاہے۔پھر یہی موضوع نئے نام کے ساتھ افسانہ کی شکل میں عوام کے سامنے آجاتا ہے ۔جو ایک عرصے تک قاری کے دل و دماغ پر طاری رہتا ہے۔لیکن وہی فساد کے موضوع پر کوئی نظم یا غزل لکھی جاتی ہے، تو وہ عوام کے عقل و خرد پر زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ پاتی۔جس کی وجہ سے لوگ نظموں کے مقابلے افسانوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔اس طرح افسانہ ادب کا حصہ بن جاتا ہے ۔اور یہ دونوں تحریریں اخباری زینت بن کے رہ جاتی ہیں۔آخر میں رشید حسن خاںاس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔جس میںخاص و عام کو ’ادبی صحافت ‘اور صحافیانہ ادب کے فرق کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنے کی وکالت کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر کوئی انسان اس کو اچھی طرح سے سمجھ نہیں پاتا، تو وہ ایسی الجھن میں مبتلا ہو جائے گا جس کا کوئی تصور بھی نہیںکر سکتا۔

           ’نصابی کتابوں کی ترتیب میں املا،رموز اوقات اور علامات کا مسئلہ ‘میں رشید حسن خاں نے ان سب حوالوں سے گفتگو کی ہے۔ جس میں تعلیمی نظام کے ساتھ اس کی صحیح اصلاح کا خیال رکھا گیا ہے۔انھوں نے اس مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بچہ اپنے تعلیمی سفر کے دوران جن صورتوں کو بار بار دیکھتا ہے۔اس سے ان کاذہن، ان کی یادداشت ان سادہ اور صاف ورق کو اسی طرح اپنے دل وماغ میںمحفوظ کر نے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔یہ اپنے ان ہی تعلیمی نظام کو ذہن میںرکھ کر ایک نئی سوچ پیدا کرتاہے۔جن کی مدد سے وہ تعلیمی میدان میں اپنے قدموں کو جمانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ جس سے کہ ہمیں صحیح درس و تدریس حاصل کرنے کا موقع میسرہو جائے۔اسی کڑی میںہم سب آگے دیکھتے ہیں کہ بعض درسی کتابوں میں جو لفط جس ڈھنگ سے لکھا ہوتا ہے۔بچے اس لفظ کو اسی طرح لکھنا اور پڑھنا سیکھ جاتے ہیں۔ لیکن یہ لفظوں کے ہجے کی صحیح شکل وصورت کو اچھی طرح سے سمجھ نہیں پاتے۔ جس سے ان کا املا درست نہیں ہوپاتا۔رشید حسن خاں نے نثر و نظم کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بعض درسی کتابوں میں ایک لفظ کو دو طرح سے پیش کیا جاتاہے۔اس وجہ سے انھیں اس کی حقیقت اچھی طرح سے سمجھ میں نہیں آپاتی۔ان درسی کتابوں میں مختلف لفظوں کو دو طرح سے لکھا گیا ہے۔ جیسے ایک جگہ ’گذرنا‘ اور دوسری جگہ ’گزرنا‘لکھا ہے۔ ٹھیک ایک دوسری جگہ’ہرج‘ اور’حرج‘اس طرح لکھا ہے۔رشید حسن خاں کا ماننا ہے کہ ان کتابوں کی غلطیوںکا ذمہ دار مصنف نہیں ہوتا ہے بلکہ کاتب ہوتا ہے۔کاتب کو جس طرح پڑھایا جاتا ہے یہ لفظوں کواسی طرح لکھتا ہے۔جس کی وجہ سے بچوںکے ساتھ بڑوں کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کی دوسری وجوہات یہ بھی ہیں کہ انھیں حرفوں اور لفظوں کے ساتھ صورت شناسی کے عمل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ان سب باتوں سے پرے انھیں متعدد جگہ سوالیہ نشان ،ندائیہ نشان،کاما اور بیانیہ علامت سین سے بھی نا آشنا ہونا پڑتا ہے۔جس کی وجہ سے یہ بعض جملوں کوصحیح ڈھنگ سے لکھ نہیں پاتے۔ علاوہ ازیںرشید حسن خاں نے بچوں کے نصاب میں صحت املا اور رموزِاوقات کے مختلف علامات کو لازمی طور پر شامل کرنے کی پر زور وکالت کی ہے۔جس سے یہ بچے ’واو‘ اور ’ی‘کے معروف اور مجہول آوازوں کے فرق کو اچھی طرح سے پہچان سکیں۔

          رشید حسن خاں کی پہچان تحقیق و تدوین،تنقید ،لغت،قواعد اور املا کے حوالے سے کی جاتی ہے۔انھوں نے اپنے تنقیدی کارناموں سے ہر خاص وعام میں ایک الگ پہچان بنائی ۔جس کی وجہ سے بعض مصنف اور شاعران کی تحقیق و تنقید کو پڑھ کر اپنے لیے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔ا ن مصنفوں اور شاعروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی طرح اپنے مضامین یا کلام میں صحیح املا اور اچھی روانی پیدا ہو جائے۔ جس سے اپنی تحریروں میںوہ خوبصورتی ومنظم پیداہو جائے جیسی بعض محققوں کے یہاں ہوتی ہے۔اس کے بر عکس رشید حسن خاں نے کلاسیکی لسانیات پر خاص طور سے اپنی نگاہ ڈالی ۔ لفظوں کے استعمال اور ان کی قدر وقیمت پر اپنی خاص توجہ صرف کی ۔جن میں تنقیدی نگار شات ایک نئے انداز میں ان کی تحریروں میں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔اس طرح بعض قاری ان سارے مضامین کو پڑھ کر اپنے اندر ایک نئی سوچ پیدا کرے،تاکہ ان سارے مضامین سے اپنے اندر بھی ایک نئی فکرکو بروئے کار لایا جائے اور اپنی تحریر و تحقیق کو نئی بلندی عطا کی جائے۔ رشید حسن خاں کی ہمیشہ یہ جستجو رہی کہ کسی طرح اپنے اندر بھی ادب کی نئی فکر کو پروان چڑھا یا جائے۔ جس سے اپنے اندر ابھرنے والے تلاطم کو عوام کے سا منے پیش کیا جاسکے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ رشید حسن خاں ایک اسم با مسمیٰ تھے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب میں رشد وہدایت کی ذمہ داری کو بڑی خوبی سے نبھایا۔ان کی اس کوشش سے املا،انشا اور عبارت میں نئی جان پیدا ہو گئی اور تحقیق و تنقید کے اصول وضوابط سے خاص وعام بھی واقف ہو گئے۔تلاش وتعبیر اور تفہیم کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ رشید حسن خاں نے ان دونوں کتابوں کے ذریعہ قاری کو تنقید کے حقیقی روپ سے واقف کرایا۔جس کی وقت کے ساتھ عوام کو از حد ضرورت تھی ۔

     حواشی

      ۱۔صفحہ ۹۴،۹۵،رشید حسن خاں کچھ یادیں کچھ جائزے،مرتبین ،ڈاکٹر محمد آفتاب اشرف ،جاوید رحمانی،مکتبہ الحرا،دربھنگہ،  ۲۰۰۸؁ء

      ۲۔صفحہ ۱۵۶۔۵۷ ۱،اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک،خلیل الرحمن اعظمی ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی،دوسری طباعت،  ۲۰۱۳؁ء

      ۳۔صفحہ۔۳۶،افہام و تفہیم ،علی جاوید،رائٹر س گلڈ (انڈیا)لیمیٹیڈ ،دہلی،  ۲۰۰۰؁ء

      ۴۔صفحہ۔۳۵۔۳۶، تنقید کیا ہے؟ اور دوسرے مضامین،پروفیسر آ ل احمد سرور،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،نئی دہلی،  ۱۹۷۷؁ئ

        کتابیات

      ۱۔ تلاش وتعبیر ،رشید حسن خاں ،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،جامعہ نگر ،نئی دہلی،  ۱۹۸۸؁ء

          ADIL EHSAN

      Department Of Urdu

      University Of Delhi

      Email-adilehsan1@gmail.com

       Mobile No-8802188589

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.