آہ پروفیسر ابن کنول ۔۔۔۔۔دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں

آہ پروفیسر ابن کنول ۔۔۔۔۔دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں

شبنم شمشاد
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو
مانو،آرٹس اینڈ سائنس کالج فار وومن،سری نگر

ناصر محمود کمال بمعروف ابن کنول کا نام دبستان ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ شمس الحسن کنول ڈبائیوی کے بیٹے ابن کنول دنیائے شعرو ادب میں ایک ممتاز افسانہ نگار ،ڈرامہ نگار ،انشائیہ نگار ،خاکہ نگار ،نامورمحقق، نقاد ،بلند پایہ ادیب ،فنکار و مبصر کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ابن کنول نے 40سے زائد کتابوں کی ترتیب و تدوین بھی کیا ہے۔ان کی یہ علمی وادبی کاوشیں گوشۂ ادب میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں ۔ انہوں نے جس موضوع پربھی قلم اٹھا یا ہے، اس کا پوراپورا حق ادا کیا ہے ۔ لیکن جس چیز نے انہیںشہرت دوام عطا کیا وہ ان کی افسانہ نگاری ہے ۔ ابن کنول گو نا گوں شخصیت کے مالک تھے۔وہ ایک اچھے ادیب ، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک مشفق استاد بھی تھے۔ ان کے افسانوی مجموعہ ’’تیسری دنیا کے لوگ ،1984 ‘‘اور’’بند راستے ،2000 ‘‘اور ’’پچاس افسانے ،2014‘‘منظر عام پر آکر اپنی مقبولیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔
پروفیسر ابن کنول سے میری پہلی ملاقات شعبۂ اردو ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ایک خصوصی لکچر میں ہوئی تھی ۔ جس میں انہوں نے اپنا افسانہ ’’ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ‘‘سنایا تھا ۔ ان کے افسانہ خوانی کا انداز غضب کا تھا ،ہم جمیع طلباو طالبات اس افسانہ سے بہت لطف اندوز ہوئے تھے ۔ لیکن اس وقت میں چوں کہ ایم ۔فل کی ایک ادنیٰ سی طالب علم تھی ۔افسانے کی گہرائی و گیرائی کو نہیں سمجھ سکی تھی ۔لیکن آج جب ان کے اسی افسانہ کا دیدہ ریزی و عرق ریزی سے مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ابن کنول نے اس افسانے میں ہمارے سماج میں ہورہے حکمرانوں کے جابرانہ روش پر ضرب کاری لگایاہے ۔ انہوں نے اس افسانہ میں حکمرانوں کے مصلحت آمیز کرداروں کی عکاسی بہت عمدہ انداز میں کی ہے جسے ان کے افسانہ ’’ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ‘‘کے اس اقتباس میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔رقم طراز ہیں:

’’ہم جانتے ہیں کہ ہماری رعایا ایک عذاب آسمانی میں گرفتار ہے ۔ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے اور ایسا کیوں ہورہا ہے ۔ تم سب ہماری اولاد کی طرح ہو ۔ہم تمہارے لیے فکر مند ہیں اور کوشش کریں گے کہ تم لوگوں کو جلد اس مصیبت سے نجات ملے ۔ہم نے اپنے وزیروں کی ایک جماعت کو اس کی تحقیقات کے لیے متعین کیا ہے ۔۔۔۔ ابھی چند ہی قدم آگے بڑھے تھے کہ جہاں پناہ کے عالی شان محل کے چاروں دروازوں سے چار بلند پرواز عقاب اپنے پنجوں میں سیاہ سانپوں کو دبائے ہوئے نکلے اور مجمع کے اوپر چھا گئے ۔ ۔۔۔رعایا نے عالم غیض و غضب میں جہاں پناہ کی طرف دیکھا وہ اب بھی کہہ رہا تھا تم سب ہماری اولاد کی طرح ہو ۔ہم تمہارے فکر مند ہیں ۔ ‘‘
(ابن کنول: بند راستے ،ہم قلم پبلی کیشنز ،دہلی ، 2000،صفحہ : 14)

راحت اندوری نے شاید اسی ضمن میں یہ بات کہا تھا کہ ؎

جب جی چاہے موت بچھا دو بستی میں
لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کرو

’’ہمار اتمہارا خدا بادشاہ ‘‘ یہ ایک تمثیلی افسانہ ہے ۔ اس افسانے کاخاصہ سیاسی ،سماجی ،تہذیبی ونفسیاتی کشمکش کی عکاسی ہے ۔ یہ افسانہ جو کہ داستانوی رنگ و آہنگ لیے ہوئے ہے ۔ اس کی فضا ما فوق الفطرت عناصر سے تیار ہوا ہے۔اس افسانے کی ابتدا ڈرامائی انداز میں ہوئی ہے ۔جس میں ایک عقاب اپنے پنجوں میں سانپ کو لے کر شہر کے لوگوں کے گردنوں میں چھوڑ دیتا ہے ۔ سانپ جب انسانوں کو ڈس لیتا ہے تو پھر وہی عقاب اس سانپ کو اپنے پنجوں میں لے کر رو پوش ہوجاتا ہے ۔ اس افسانے کے ذریعہ ابن کنول دور حاضر میں ہندوستان کی سیاست اور سیاست دانوں کی فکر کوعیاں کیا ہے کہ کس طرح ہمارے ملک کے حکمران ضرورت پڑنے پر مفلوک الحال ،معصوم لوگوں کو اپنے کام کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اپنا کام نکل جانے پر انہیں موت کی ابدی نیند سولا دیتے ہیں ۔ اس افسانے کا مرکزی کردار عقاب اور سانپ ہیں جوکہ شروع سے آخر تک نظر آتے ہیں ۔اس افسانے میں کہیں کہیں کہانی پن ختم ہوجاتا ہے اور حکایت کا احساس ہونے لگتاہے ۔ مکالمہ نگاری اس افسانے میں نہیں کے برابر ہے اور منظر نگاری کے اعتبار سے یہ ایک عمدہ افسانہ ہے ۔القصہ مختصریہ کہ یہ افسانہ ملک کی سیاست پر مبنی ہے ۔ جس میں لیڈروں کی گرم جوش تقریروں کو زہریلے سانپ کے وش سے تعبیر کیا گیا ہے اور لیڈروں کی چال بازیوں کو عقاب سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
علاوہ ازیں ’’بند راستے ‘‘کے دوسرے افسانوں میں ’’وارث‘‘، ’’صرف ایک شب کا فاصلہ ‘‘،’’پہلا آدمی ‘‘وغیرہ سیاسی ، سماجی و تاریخی نوعیت کے افسانے ہیں ۔ افسانہ ’’ پہلا آدمی ‘‘ میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ کس طرح سے جابر ومفاد پرست حکمران اپنی طاقت و منصب کا غلط استعمال کرکے بے بس عوام کی مجبوریوں کافائدہ اٹھاتے ہیں ۔
ابن کنول مجاہد معاشرہ تھے۔ انہوںنے اپنے افسانوں میں موجودہ دور کے مسائل ،زندگی کی پیچیدگیوں ، محرومیوں ،جبروتشدد ،عدم تحفظ کا احساس ،حکمرانوں کے بہروپ ، زندگی کی خواہشات کے حصول غرض زندگی کے ہر پہلو پر بے باکانہ قلم اٹھایا ہے ۔ ابن کنول کی ادبی جہت کے سلسلے میں پروفیسر وہاب اشرفی کچھ یوں رقم طراز ہیں :

’’ ابن کنول اشتراکی ذہن رکھتے ہیں ،ترقی پسندی کل بھی ان کی جولان گاہ تھی اورآج بھی ہے ۔ شعر ہو یا افسانہ یا مضمون ان کی تحریروں میں عالمی صورت واقعہ کی پرچھائیاں ملتی ہیں ۔ وہ مقامی مسائل اور احوال کو بھی وسیع تناظرمیں دیکھنے کی سعی کرتے ہیں ۔ استحصال کے طور اور انداز کی انہیں خبر ہے ۔۔۔۔اس امر سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ معاملات کو وسیع تناطر میںدیکھنا پسند کرتے ہیں ‘‘۔
(وہاب اشرفی : تاریخ ادب اردو (جلدسوم)،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی ،2007،صفحہ : 1373)

ابن کنول کا تعلق اردو افسانہ نگاروں کی اس صف سے ہے جنہوں نے بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اپنی شناخت قائم کی ۔ ان کے معاصر افسانہ نگاروں میں سید محمد اشرف ، صغیر افراہیم ، طارق چھتاری ، غضنفر ،پیغام آفاقی ، سلام بن رزاق ، عبدالصمد اور حسین الحق کا نام سر فہرست ہے ۔ ان افسانہ نگاروں میں جو بات قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان کے افسانے جدید افسانوں کی طرح فیشن پرستانہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ ترقی پسند ادیبوں کی مانند نظریاتی دباؤں کا شکار ہیں اور نہ ہی انہوں نے کلاسیکی افسانے کی شعریات و قدیم افسانے کی روایات سے انحراف کیاہے ۔ بلکہ’’نئے اقدار میں ماضی کو بھی ڈھالا جائے ‘‘کا عزم مصمم لیے ہوئے تھے ۔ ابن کنول اور ان کے معاصرین نے بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں سیاسی ، سماجی ، تاریخی ، ثقافتی، معاشی ،اخلاقی و مذہبی ہر چند صورت حال کے دو پہلو مرکزی و ضمنی کو گرفت میں لے کر حقیقت پسندانہ انداز میں غیر جانب داری سے اپنے افسانے میں برتا ہے نیز برق انتشار تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور تضاد لفظ و معانی میں کھونے کے بجائے حکایت غم ہستی میں رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے۔اثر انصاری کا یہ شعرمیں ابن کنول اور ان کے معاصرین کی نذر کرتی ہوں ؎

قلم کارو ، ادب کے جاں نثارو!
تم اپنے وقت کے ہشیار لوگو!
تمہارے فکر کی گہرائیوں سے
کسے ہے جرأت انکار لوگو!

ابن کنول نے اپنے افسانہ’’تیسری دنیا کے لوگ ‘‘میں 1947ء کے حالات و واقعات کوقلم بند کیا ہے۔اس افسانے کا پس منظر 1947ء کے بعد یعنی تقسیم ہند کے نتیجے میں درپیش فسادات اور قوم و مذہب کے نام نہاد پر ہونے والا ظلم و تشددہے اور قتل و خوں ریزی کی وہ داستان عبرت ہے جس میں لاکھوں لوگوں کو زندہ نذر آتش کر دیا گیا تھا ، بستیوں کو اجاڑ دیا گیا ،ماں باپ کی نظروں کے سامنے ان کی اولاد کو قتل کر دیا گیا ،جوان بیٹیوں کی عصمت کو تار تار کر دیا گیا ،ہر چہار سو حیوانیت کا بول بالا تھا، جس کو دیکھ کر انسانیت بھی کراہ اٹھی ۔فلک نے آنسو بہائے ، زمیں سہم گئی ، روح کانپ اٹھی۔شاید اسی منظر کو دیکھتے ہوئے ترقی پسند شاعرساحر لدھیانوی نے کہاتھا کہ ؎

طرب زاروں پہ کیا بیتی ،صنم خانوں پہ کیاگزری
دل زندہ! ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیاگزری

اسی خونی روداد کو ابن کنول کے افسانہ ’’تیسری دنیا کے لوگ ‘‘کے اس اقتباس میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں :

’’میں دیکھ رہا ہوں ،میرا گھر جل چکا ہے ۔ اس کی راکھ سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے ۔میرا باپ ،میری ماں اور میری بیوی کے جسم آگ کے شعلوں کی نذر ہوچکے ہیں ۔میرے بچوں کے جسم خون سے لتھڑے ہوئے ہیں‘‘۔
(ابن کنول :بند راستے، ہم قلم پبلی کیشنز ،دہلی ، 2000،صفحہ : 48-47 )

اسی کیفیت کو ساحر لدھیانوی نے کچھ یوں بیان کیا ہے :

اس شام مجھے معلوم ہوا ،جب باپ کی کھیتی چھن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا ،جب بھائی جنگ میں کام آئیں
سرمائے کے قحبہ خانوں میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

اسی افسانے کا دوسرا اقتباس ملاحظہ کریں:

’’خدا کی یہ زمین ہم پر تنگ ہوچکی ہے اور آسمان سے ہمارا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ہم اپنے معصوم بچوں کو ذبح ہوتے ہوئے اور عزیزوں کے جسموں کو آگ میں جلتے ہوئے نہ دیکھ سکے اور خدا دیکھتا رہا ۔ ہم نے آسمان سے رحم کی بھیک مانگی،لیکن ہمارے دامن میں دہکتے ہوئے انگارے آئے ۔۔۔۔۔اب سوائے اس سمندر کے ہمارے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ۔‘‘
(ابن کنول :بند راستے، ہم قلم پبلی کیشنز ،دہلی ، 2000،صفحہ : 51)

اس افسانہ میں ابن کنول کے مارکسی نظریہ کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔ اثر انصاری نے شاید برسوں پہلے ان کے اسی افسانے سے متعلق کہہ دیا تھا کہ :

آدمی کہاں جائے چھوڑ کر مکاں اپنا
آتشیں بموں کی جب ہر طرف دھمک بھی ہے

دوسری مرتبہ ابن کنول سے ہماری ملاقات شعبۂ اردو ،مانو کے ’’داغ دہلوی :فکرو فن ‘‘سمینار میں ہوئی ۔ جس میں انہوں نے داغ دہلوی کے حوالہ سے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا تھا ۔اور اپنے ڈراما ’’ بزم داغ‘‘کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں کی تھیں ۔ سمینار کے اختتام پر ایک دن سیر حیدرآبادکے لیے متعین تھا۔ اس دن صبح سے شام تک ابن کنول سر کی شخصیت کو دیکھنے ،سمجھنے اور پڑھنے کا موقع ملا ۔ ہم سب نے چار مینار میں بیچ بازار چائے بھی نوش کی اورپھرمکہ مسجد کے اندر گئے ۔ سر نے مجھے بلاکر نام دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کس موضوع پر ریسرچ کررہی ہیں۔ میں نے بتایا کہ فضاابن فیضی کے مجموعہ کلام ’’سبزۂ معنی بیگانہ کا تنقیدی تجزیہ ‘‘میرا موضوع ہے ۔ سر بہت خوش ہوئے اور مجھے بہت سے مشورے بھی دیئے ۔پھر سر نے کہا کہ تم بالکل میری بڑی بیٹی اریبہ جیسی لگتی ہو۔وہ بھی تمہاری طرح پرداہ کرتی ہے ۔ اگر تمہیں ریسرچ کے کام میں کبھی کوئی مشکل در پیش آئے تو بلا جھجھک مجھ سے رابطہ کرسکتی ہو۔ سرکے اخلاق عظیم یہ تھے ۔ جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے بعد متعدد مرتبہ ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سمینار اور وائیوا میں اکثر آپ تشریف لاتے ۔ان کی شخصیت کو سمجھنے اور سننے کا موقع ملتا ۔ ان کے انداز گفتار میں مزاح کا پہلو پنہاں ہوتا تھا ۔ہر کسی سے خوش خلق اور ملنساری سے ملتے ۔درمیان گفتگو آپ بات ہی بات میں طنزیہ جملے کہہ جاتے جوکہ مزاح کے کاٹ سے لبریز ہوتا تھا ۔ان کی تحریر ’’ کچھ شگفتگی کچھ شائستگی ‘‘جوکہ انشائیہ اور خاکوں پر مشتمل ان کی شخصیت کی مکمل عکاسی ہے ۔
11؍فروی 2023 ء کا دن کبھی فراموش نہیں کر سکتی کہ صبح ہی میں علی گڑھ پہونچی تھی ۔ ہمارے شعبہ میں ایک ساتھی کا وائیوا تھا ۔ابن کنول سر ہی اکسپرٹ تھے ۔ وائیوا ختم ہونے کے بعد تمام اساتذۂ شعبہ جات ان کو کار تک رخصت کرنے کے لیے آئے ۔ آپ بہت خوش تھے ۔ علی گڑھ سے ان کو حد درجہ انسیت تھی ۔کسے پتا تھا کہ اب سے چند لمحے بعد یہ ہمارے درمیان سے رخصت ہوکر ابدی نیند سو جائیں گے ۔’’ دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں ‘‘۔ شام 03:30pm جب میںنے فون دیکھا تو سرخیوں میں ان کے انتقال کی خبر پڑھ کر دل کو یقین نہیں آیا ۔اگلی صبح ان کے بھائی کے گھر گئی ۔وہاں ان کی لاش دیکھ کر بھی یقین نہیں ہورہا تھا کہ سر اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ کسی نے سچ کہا ہے ’’ جانے والے کبھی نہیں آتے ‘‘۔۔۔۔زندگی پر کس کا بس چلا ہے ۔۔۔’’نہ بس میں زندگی اس کے ، نہ قابو موت پر اس کا ‘‘۔کیوں کہ ’’یہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہے ‘‘اس نشاط زندگی کی بشاط حقیقت موت ہے ۔ ۔۔۔مجھے کہنے دیجیے کہ’’زندگی موت تیری منزل ہے ‘‘۔اس لیے کہ سکون دے نہ سکیں راحتیں زمانے کی ۔کیوں کہ ’’ہر ایک سانس پر پہرا ہے بے یقینی کا ‘‘۔۔۔۔۔ زندگی اپنے آخری سہارے کی متلاشی ہوتی ہے۔۔۔۔اور’’زندگی ڈھونڈ ہی لیتی ہے سہارا آخر ‘‘۔۔۔نیز ہمیشہ کے لیے شمع حیات گل کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔کیوں کہ زندگی ہر لمحہ موت کے سانچے میں پلا کرتی ہے۔جگر مرادآبادی نے سچ کہا تھا کہ ؎

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ
موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

راحت اندوری نے کچھ یوں کہا تھا کہ:

موت لمحے کی صدا ،زندگی عمروں کی پکار
میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جاناہے

مختصر یہ کہ ابن کنول کا سانحۂ ارتحال دبستان ادب کے ایک باب کا خاتمہ ہے ۔جسے اردو دنیا کبھی پورا نہیں کرسکتی۔ میں ندا فاضلی کی یہ نظم ان کی نذر کرتی ہوں کہ ؎

تمہاری قبر پر
میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا
مجھے معلوم تھا
تم مر نہیں سکتے
تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی
وہ جھوٹا تھا
وہ تم کب تھے
کوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے ہل کے ٹوٹا تھا
میں جو بھی دیکھتا ہوں
سوچتا ہوں
وہ وہی ہے
کہیں کچھ بھی نہیں بدلا

٭٭٭٭٭

از: شبنم شمشاد
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو
مانو،آرٹس اینڈ سائنس کالج فار وومن،سری نگر
Email ID : shabnamshamshadmau@gmail.com
9682574644 Mob :
Add : Miss SHABNAM SHAMSHAD
C/O : AZHAR HUSAIN KHAN
Flat No: 4, Type-5 Staff Quarter,MANUU
Gachibowli Hyderabad Telanagana -500032

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.