ناول’’لیمی نیٹدگرل‘‘موضوع ا ور اسلوب کا ایک نیا باب

اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرے اور دوسری دہائی کے نصف عشرے کی تخلیقات پر نظر ڈالنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صدی فکشن کی صدی ہے۔اس صدی کے موضوعات بیسویں صدی کے موضوعات سے بالکل الگ ہیں ۔بیسویں صدی کے ناولوں میں جن موضوعات کو زیادہ اہمیت دی گئی ان میں رومانیت،اصلاح معاشرہ،ترقی پسند تحریک کے تحت مظلوم ، مفلوک الحال کسان اور مزدور طبقہ کی زندگی اور سماج میں عورتوںپرہو رہے ظلم و ستم اور استحصال کو کو موضوع بنا کر بے باک اور سفاک حقیقت نگاری کا مظاہرہ کیا گیا  اور پھر تقسیم ہند کے نتیجے میں ہجرت کے کرب کا اظہار کیا گیا  اس کے بعدجدیدیت اورما بعدجدیدیت کے رجحان کے تحت جن موضوعات کو برتا گیا ان میں زندگی سے فرار، لایعنیت، بے چارگی،احساس شکست،موت سے محبت،وجودیت اور قدروں کے انہدام کی نوحہ گری کی گئی ہے۔لیکن اکیسویں صدی کا فکشن اور اس کے موضوعات بیسویں صدی سے قدرے مختلف ہیںاس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آج کا فکشن نگار کسی ازم کا پابند نظر نہیں آتا اس لئے وہ سماج اور معاشرے میں انسانی زندگی سے جڑے ہوئے مسائل کو ہر طرح سے بیان کرنے میں آزاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں فکشن نگاروں نے  ایسے موضوعات کا انتخاب کیا  جو اِس عہد کے سلگتے  ہوئے موضوعات ہیں مثلاً 9/11کا حادثہ،گجرات فساد،کرپشن، کالا بازاری،سر کاری محکموں میںرشوت ستانی،،سیاسی حکمرانوں کی عیاریاں،دلتوں اور آدی واسیوں کے مسائل،عورت کے تحفظ ،تشخص اور مساوات کے مسائل،تلاش معاش کے لئے ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہجرت کے مسائل،تعلیمی اداروں میں ایجوکیشن مافیائوں کا تسلط اورکمپیوٹر انٹر نیٹ کے ذریعہ واٹس اپ،فیس بک چلانے والی نئی نسل کا جنسی جرائم کی طرف جلد رغبت وغیرہ قابل ذکر ہیں جن کا برملا اظہار آج کا فکشن نگار کر رہا ہے ۔اکیسویں صدی میں جن فکشن نگاروں نے اپنے موضوعات، اسلوب اور تکنیک کی سطح پراپنی ایک الگ شناخت قائم کی ان میں ایک قابل ذکر نام اختر آزاد کا ہے۔یہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں ان کے چار افسانوی مجموعے اور ایک تنقیدی کتاب شائع ہوچکی ہے لیکن وہ اپنے پہلے ہی ناول’لیمی نیٹڈ گرل‘جو اردو فکشن کا وہ تخلیقی سرمایہ ہے جو اکیسویں صدی کے فکشن میںایک نیا باب کھولتا ہے اس کے ذریعہ ادبی حلقوں میں کافی موضوع بحث ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ایک  ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جواردو فکشن کی دنیا میںبالکل نیا ہے کسی نے اس موضوع کو اب تک پیش نہیں کیا اور وہ موضوع  صرف مقامی، علاقائی اور ملکی ہی نہیں بلکہ عالمی نوعیت کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے اور وہ موضوع ہے Reality Shows ۔

                یہ ایسا موضوع ہے جو ہماری عصری زندگی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس طرح کے ٹی وی شوز نے نئی نسل کے ذہن اور اس کی فکر کو ایک صارفی سوچ میںبدل کر یہ سبق دیا کہ آج پیسہ ہی سب کچھ  ہے باقی سب اسی سے ہے۔ یعنی عزت ، شہرت سب کچھ اس سے خریدی جا سکتی ہے ۔اس فکر کی نمائندہ ناول کا مرکزی کردار شوبھا ہے جو انسانی سرگزشت کا بظاہر طربیہ ہے لیکن آئندہ کے لئے کسی  المیہ سے کم نہیں  ہے۔شوبھا در اصل ایکسویں صدی میں موڈرن عہد کے فیمینزم کلچر کی نمائندہ ہے جسے وہ روایتی اقدار و روایات جس کے پاسدار اس کے شوہر ڈاکٹر کپل ہیں ان سب سے چڑھ اور نفرت ہے اور وہ مغربی افکار ونظریات جو مغرب میں بہت پہلے ہی عورتوں کو اپنی ہوس کا شکار بنانے اور ان کا جنسی استحصال کرنے کے لئے استعمال کئے جا چکے ہیں اب وہی حربے پوری دنیا م میں عام کرنے کے لئے ریئلٹی شوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔مختلف چینلز پر روازانہ نشر ہونے والے ریئلٹی شوز نے آج عورت کو فروخت ہونے والی اشیا بناے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔بظاہر ٹیلنٹ  شو کے نام پر منعقد ہونے والے یہ ریئلٹی شوز آج معاشرے میں بے شرمی، بے حیائی، فحاشی، عریانی، پھوہڑپن اور جسم فروشی کے کارو بار کو فروغ دینے کا کام کر رہے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ ان شوز کے ذریعہ یہ ساری برائیاں فیشن اور روزگار کے نام پر برائی نہ رہ کر ٹیلنٹ اور اسٹیٹس بن گئی ہیں۔ایسے شوز میں بچوں کو بھیجنا ،ان کے لئے ٹریننگ کرانے اور پیسہ کمانے کی ایک ہوڑ سی لگی ہوئی ہے۔اختر آزاد نے سماج میں پھیلی اس بیماری اور ناسور بنتے اس روگ کو بے نقاب کیا ہے۔پورا ناول اس کے خلاف ایک صدائے احتجاج ہے۔

بیسویں صدی کے مقابلے ایکسویں صدی میں ہمارے تہذیبی منظر نامہ میں جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ کہ بیسویں صدی کی عورت ہر ظلم و ستم ہنس کر سہہ لیتی تھی کسی کو اف تک نہیں کہتی تھی لیکن اکیسویں صدی میں یہ ظلم و ستم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے  یہ ایک خوشگوار تبدیلی تو آئی ہے لیکن اس کے نتیجے میں ازدواجی رشتے کس طرح متاثر ہو رہے ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔پہلے مرد اساس معاشرہ تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ اکیسویں صدی گزرتے گزرتے یہ خواتین اساس معاشرہ ہو جائے گا۔اس پیش گوئی کا اندازہ ناول کے اس اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

’’ریئلٹی کی دنیا کیسی ہے اس سلسلے میں ،میں تم سے کوئی رائے نہیں مانگ رہی،میں نے اسے نو ماہ اپنی کوکھ میں پالا ہے۔تم سے زیادہ اس کے فیوچر کی مجھے فکر ہے۔اور ایک بار اگر میں نے کہہ دیا تو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ اگر تم اس کے ڈانسر بننے کے راستے میں رکاوٹ بنے تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا ۔‘‘ص:14

شوبھا کا یہ اسٹیٹمنٹ در اصل مرد اساس معاشرہ کے لئے ایک طرح سے چنوتی بھی ہے اور چیتائو نی بھی۔کہ آنے والا کل کیسا ہوگا۔یہ در اصل اکیسویں صدی کی تانیثی فکر ہے جو مرد اساس معاشرے کو کسی بھی حال میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ عورتوں کی آزادی کے نام پر آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔تانیثی فکر اور اس کلچر کی نمائندگی کرتے ہوئے شوبھا کا یہ کہنا کہ ’میں تو کہتی ہوں کہ بازار میں جس چیز کی دیمانڈ ہو اسے گوڈون میں رکھ کر سڑانا کون سی عقلمندی ہے۔۔۔؟‘گویا وہ وہ یہ کہہ رہی ہے کہ اکیسویں صدی کے بازار میں ہر چیز میں خوبصورتی کی ڈیمانڈ ہے اس لئے برقعہ ،ساری، سلوار جمپر یا ایسے لباس سے گریز کرو جس سے تمہاری خوبصورتی کا اظہار نہ ہو  یا تمہاری  خوبصورتی ماند پڑ جائے اور زمانہ تمہاری طرف پلٹ کر نہ دیکھے بلکہ اپنی خوبصورتی کا جتنا استعما ل کر سکتی ہو کرو گوڈان میں رکھ کر اسے سڑانے کی ضرورت نہیں ہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ ساری خوبصورتی گوڈان سے باہر نکل آئی ہے اور جو بچے ہیں وہ نکلنے کے لئے بیتاب ہیں۔اسی طرح پاپولر چینل کی اینکر پائل کے ذریعہ بھی ایک ایسی ہی فکر کو پیش کیا ہے جو خالص اکیسویں صدی کی تانیثی فکر ہے اقتباس دیکھیے:

’’ہم ہمیشہ کی طرح آج بھی آپ کے سامنے ایک ایسے پتی پتنی کا کیس لے کر آئے ہیں جو بہت دلچسپ ہے۔پتنی روشن خیال ہے با لکل میری طرح۔اور میاں پڑھا لکھا ڈاکٹر ہونے کے بعد بھی ذہنیت وہی گھسی پٹی پرانی ہے۔عورت کو جاگیر سمجھتا ہے ،اسے گھر کے اندر ہی رکھنا چاہتا ہے ۔۔۔چھوٹے اور موڈرن کپڑے نہیں پہنے،ڈانس نہیں کرے۔کسی کے ساتھ بات نہ کرے اور حد تو تب ہوگئی جب اس نے اپنی سات سالہ بیٹی کے اوپر ابھی سے اس طرح کی گھٹیا  پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں ۔لیکن یہ سب کچھ مجھ جیسی روشن خیال بیوی بھلا کیسے برداشت کرے گی۔۔۔۔؟‘‘ص:114

 اس طرح کی تانیثی فکر ابھی تک توہائی سوسائٹی کا حصہ ہیں لیکن مڈل کلاس اور لور کلاس سوسائٹی تک پہنچنے میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گاکیونکہ لیمی نیشن پروسیس اب ہر جگہ شروع ہو چکا ہے۔ ان تمام پروسیس پر ناول نگار نے اپنے گہرے مشاہدے کے ذریعے اس کی خوبیوں اور خامیوں کی نقاب کشائی کی ہے۔

اس ناول کا محرک در اصل وہ رشتے ہیں جو پاکیزہ ہیں  جس میں ہوسناکی نہیں ہے ۔وہ رشتہ ماں ،بیٹی، بہن، بیوی وغیرہ کا ہے۔لیکن موجودہ صورتحال نے ان رشتوں کے تقدس کو کس طر ح پامال کر نا شروع کر دیا ہے وہ ناول کے درون سے واضح ہو تا ہے۔ہم نے اپنی سماجی بر تری،دولت و ثروت اور جھوٹی جاہ و عظمت کی خاطر ان رشتوں کو پراگندہ کرنا شروع کر دیا ہے اور اپنی تہذیبی ،معاشرتی، اور اقداری روایات کا گلا گھونٹ دیا۔اب ان رشتوں میں وہ ساری روایات ناپید ہوتی جا رہی ہیں جو ہماری عظیم تہذیبی وراثت کا حصہ تھیں۔ایسے رشتے جن سے پاکیزگی کی بو آتی تھی اور دوسروں سے متارف کرواتے ہوئے ایک طرح سے طمانیت کا احساس ہوتا تھا لیکن اب جیسے جیسے یہ لیمینیٹ ہو کر اسٹیج کی رونق بننے لگی ہیں اور اپنی تمام تر روایات کا گلا گھونٹ کر گلیمر کی دنیا میں جھوٹی عزت اور شہرت کی خاطر ایسے ایسے کام کرنا شروع کردی جن سے آنکھیں شرمسار ہو کر جھک جاتی ہیں ۔اب جب کہ ہر گھر میں لیمینیشن کا پر سیس شروع ہو گیا ہے تو قدیم تہذیب و ثقافت کے پاسدار غیرت مند اور حساس آدمی کے ایک المیے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور ایسے افراد کے لیے اپنے ہی گھر میں سر اٹھانا مشکل ہو تا جا رہا ہے۔ اس لئے اس ناول کا انتساب بھی مصنف نے ’ان کے نام،جنھوں نے ،لیمی نیشن پروسیس کے خلاف ،احتجاج کا علم بلند کیا ،اور اس کی شروعات ، گھر کی چہار دیواری سے کی،اسے میدان عمل بنایا،اور بیٹیوں کو لیمینیٹڈ گرل بننے سے بچایا‘   ہے۔اس انتساب سے پورے ناول کا مقصد واضح ہو تا دکھائی دیتا ہے۔

کلچر ،آرٹ اور ریئلٹی کے نام پر ہمارے ملک میں دکان نما  اسکول جس طرح کھل رہے ہیں یا کھولے جا رہے ہیں اور اس کے در پر دہ جس طرح کی کالا بازاری ہو رہی ہے ایک تو ناول اس پر سوال قائم کرتا ہے اور دوسرا سب سے اہم مگر بنیادی سوال ’بال مزدوری‘ کا ہے جو صرف ملکی ہی نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔نابالغ بچوں سے محنت اور مزدوری کروانا اور ان سے پیسے کموانا بچہ مزدوری کہلا تا ہے جو ملک کے آئین کے مطابق غیر قانونی ہے لیکن فلم ،سیریلس اور ریئلٹی شوزمیں ہمارے سوسائٹی کی ایلیٹ کلاس فیملی اور سو کالڈ فری مائنڈیڈ پیرینٹس قانون کی آنکھوں میں آرٹ ،کلچر، اور انٹر ٹینمنٹ کی پٹی باندھ کر جس  طرح سے  بچوں سے دن رات محنت کرواتے ہیں اور ان سے شفٹوں میں کام کرواتے ہیں کیا یہ بال مزدوری نہیں ہے؟اگر یہ بال مزدوری ایکٹ  کے دائرے میں آتا ہے تو ایسے گارجین کو کیا سزا ملنی چاہیے؟انٹر ٹینمنٹ کے نام پر ہماری سرکاریں کیوں خاموش ہیں ۔بال مزدوری ہوتے ہوئے بھی اسے بال مزدوری کیوں نہیں کہتے؟اختر آزاد نے اس اہم مسئلے کو پیش کرتے ہوئے اس پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟لوگ اس کے خلاف صدائے احتجاج کیوں نہیں بلند کرتے؟اس طرح کے اور بھی سوالات ہیں جو قاری کی قوت حس کو بیدار کرنے کا کام کرتے ہیں۔

اختر آزاد کا یہ ناول بدلتے ہوئے سیاسی،سماجی،ثقافتی،تہذیبی اور اقداری روایات کی پامالی  کا کچا چٹھا  ہے جس میں عصرعی حسیت پوری طرح پائی جاتی ہے۔ناول پچاس ابواب پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے مربوط بھی ہیںاور ان سب کے عنوانات انتہائی دلچسپ اور معنی خیزہیں۔ موڈرن سوسائٹی،اسٹیٹس،لیگزری کار،زندگی کامنچ،گیسٹ ہائوس،چھتری،شوسل نیٹ ورکنگ چینل،ٹی آر پی کی جنگ،مغربی ڈش،لیگ فرائی،رنگین چشمہ،حسن کی منڈی اور اے ٹی ایم کارڈ،نے قاری کو حیران کر دیا ۔اس حیرانی میں یہ اقتباس دیکھیے جس میں خوبصورتی کو اے ٹی ایم  کارڈ تصور کیا جانے لگا ہے:

’’لیکن میرے لئے یہی خوبصورتی ایک اے ٹی ایم کارڈ ہے،یہ کہتے ہی شوبھا کی معنی خیز مسکراتی آنکھیں اے ٹی ایم مشین میں بدل گئی تھیں،جس کے اندرسے خوبصورتی کیش ہو کر نوٹوں کی شکل میں باہر نکل رہی تھی۔ڈٖاکٹر کپل کو اب یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ شوبھا کے لئے خوبصورتی کے کیا معنی ہیں۔اور جب بیٹی اے ٹی ایم کارڈ لگنے لگے تو پھر آپ چاہے جتنے پاس ورڈ بدل دیں ،لیکن شوبھا جیسی عورت جسمانی سسٹم کو ہائیک کر کے سب کچھ کیش کرالے گی۔‘‘ص:35

اس طرح سے ناول کا ہر باب اور ہر واقعہ بدلتے فکری منظر نامے کو پیش کرتا ہے اور بحث وتمحیص کی دعوت دیتا ہے  اور ان مائوں کی رگ حمیت کو بیدار کرنے کابھی کام کرتا ہے جو صارفی دلدل میں پھنس کر اپنا سب کچھ تیاگ کر اصل خوشی کے حصول میں ناکام نظر آتی ہیں ۔ اس دلدل سے نکالنے کے لئے اس ناول کوایک کڑی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔یہ ناول قدیم و جدیدسماجی، تہذیبی وثقافتی اقدار و روایات کے ما بین تضاد کو ظاہر کرتا ہے ایک طرف بیسویں صدی کی نسل اپنی سماجی ،اخلاقی،تہذیبی و ثقافتی اور مذہبی اقدارو روایات کی تلاش میں سرگرداں ہے اور نئی نسل کا ساتھ نہ ملنے سے اپنے ہی حصار میں قید دکھائی دیتا ہے ۔جب کہ دوسری طرف اکیسویں صدی کے بچے ایسے روایتی افراد سے کتراتے ہیں جو انھیں اخلاق ،مذہب،اور تہذیب وثقافت کا پاٹھ پڑھاتے ہیںاور ان کی آزادی میں خلل انداز ہوتے ہیں اس لئے اکیسویں صدی کے بچے ان کے پاس نہیں بیٹھتے کیونکہ آج کے بچے انگریزی تعلیم،ٹی وی سیریلس،ریئلٹی شوز اوردوسرے نئے نئے مسائل میں گرفتار ہیں اور موجودہ عہد میں دولت و ثروت کی فراوانی نے عورتوں کو روز سماجی زندگی ،ٹی وی شوز،پارٹیوں،ڈانس پارٹیوں،بار،تاش،ریس،شاپنگ اور دوسرے بیکار مشاغل میں گم کر دیا ہے ۔یہ سارے مشاغل در اصل ایلیٹ کلاس اور ہائی سوسائٹی میں ایک طرح سے اسٹیٹس سمبل تصور کئے جاتے ہیں ۔ ناول میں شوبھا کا کردار اسی طبقے کی نمائندگی کرتا ہے اور اپنا اسٹیٹس ہائی کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اپنی اور اپنی سات سالہ بیٹی پریتی کا ڈانسنگ کلب سے ریئلٹی شوز تک ہر طرح کے جنسی استحصال کو ہنس کر سہہ لیتی ہے اور بقول ناول نگار:

’’شوبھا جی!آپ مسز شرما کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھ گئی ہیں۔وہ پہلے منتری جی کے یہاں جاتی تھی۔بہت اچھے انسان ہیں منتری جی۔میں آپ کو ان سے ملوا دوں گا۔پھر ریئلٹی شو کے لئے آپ جیسا چاہیں گی ویسا وہ لائن اپ کر دیں گے۔نہ کہیں ٹسٹ دینا ہوگا اور نہ ہی کچھ اور۔۔۔۔۔۔بلکہ گھر بیٹھے کمپٹیشن کا لیٹر آجائے گا۔‘‘ص:81 – 80

 گھر بیٹھے بغیر ٹسٹ دیے کمپٹیشن کے  لیٹر کیسے آجاتے ہیں یہ آج ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والی سبھی شوبھائوں کواس کا  بہتر علم ہے۔ناول نگار نے شارٹ کٹ طریقے سے ملنے والی کامیابی کے در پردہ اسرار و رموز کو بے نقاب کیا ہے۔  اس ناول کے دوسرے کردار وں میں پرنسپل،ایم ایل لے سلیم کانے،منتری جی،شیام سندر،راج ملہوترہ مسٹر اور مسز شرماوغیرہ قابل ذکر ہیں جو ناول کو وسعت دینے اور اسے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ان کرداروں میں ڈاکٹر کپل اور انجینیر شرما دونوں دو متضاد کر دار ہیںایک کے یہاں ایسے مسائل اور صورتحال پر احتجاج کا رویہ ملتا ہے اور دوسرے کے یہاں اس پر بے حسی کا۔ناول نگار  اس ناول کے ذریعہ آ ج کے بے حس انسان کی قوت بے حسی کو بیدار کرنے کا کام کیا ہے اورپیغام آفاقی کے لفظوں میںاس کہانی کے کینوس کے ذریعہ معاشرے میں عورت کے تجارتی  اور سیکسی استحصال  اور خود عورت کے ذریعے مختلف مواقع کے استحصال کے کئی پہلوئوں کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے ۔ناول کی کریہہ اور دلکش دنیا کو ناول نگار نے مثبت اور ذمہ دار کی نظر سے دیکھا ہے ۔نیز عصری منظر نامے اور معاشرے کے طریق  کار کو پیش نظر رکھ کر اپنے مشاہدات ، تجربات اور احتسابات کو پیش کیا ہے۔

جہاں تک اس ناول کے زبان و بیان ،اسلوب اور طرز نگارش کی بات ہے تو اس سلسلے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ناول آغاز تا انجام قاری کو اپنے حصار میں قید کر لیتا ہے اور اس وقت تک اس حصار سے باہر نہیں نکلنے دیتا جب تک کہ وہ پورا ناول ختم نہ کر لے۔اس میں  ناول نگار نے  پچاس ابواب کے عنونات کو اس طرح مربوط انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری انجام تک پہنچے بغیر ناول کو چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ کسی بھی ناول میں زبان کا استعمال محض اظہار بیان کو سہارا دینے کے لئے  استعمال ہوتا ہے ورنہ اصل زور تو ناول نگار واقعے کی بنت اور اس کی پیش کش پر صرف کرتا ہے ۔لیکن اگر زبان وبیان میں وہ سلیقگی نہیں آپاتی جو ایک با ذوق قاری یا سامع کے ادبی ذوق کی تشفی کر سکے تو پھر وہ ناول زبان و بیان کے اعتبار سے بہت اعلیٰ پیمانے کا نہیں ہو سکتا۔زبان کے استعمال میں ناول نگار جس طرح کا ادبی ذوق رکھتا ہوگا اس کا اظہار بھی اسی طرح سے ہوگا ۔اس کی دلچسپی کے اعتبار سے زبان و بیان دونوں مختلف ہونگے۔اس لئے ایک منجھا ہوا تخلیق کار کسی بھی واقعے یا حادثے کا اس وقت تک موثر ڈھنگ سے پیش نہیں کر سکتا جب تک وہ منجھی ہوئی اظہاری زبان نہیں رکھتا۔اگر یہ نہیں رکھتا تو وہ قاری یا سامع پر جو تاثر ابھارنا یا چھوڑنا چاہتا ہے وہ اس میں ناکام ہوجائے گا اور وہ ایک اخباری بیان سے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گی۔اختر آزاد کی زبان ایک منجھے ہوئے تخلیق کار کی زبان ہے  جس کے اظہار پر انھیں کامل دسترس ہے۔اکیسویں صدی کیHinglishزبان کا خوبصور ت رنگین اظہار ملاحظہ کیجیے:

’’جب ٹی وی چینلز نے ٹی آرپی کی اُ گاہی کے لئے نئی نسل کے جسموں پر مرچ مصالحہ لگاکر وقت کے توے میں مغربی تیل سے ڈیپ فرائی کیا اور اسکرین نما پلیٹ میں مورڈینیٹی کا نمک چھڑک کر زندگی کے رنگین ٹیبل پر اس طرح خوشنما بنا کر پیش کیا کہ چھری کانٹے سے لیس لوگوں نے ٹیبل میز کو بالائے طاق رکھ کر ریئلٹی کے اس نادر کباب پر چاروں طرف سے یلغار کردیا۔‘‘ص:10

’’اچھا یہ بتائو کہ وہ لٹل پھلجھڑی کی ممی کے ’کیس‘ کا کیا ہوا۔۔۔۔؟’سر آپ بالکل چنتا نہ کریں ۔فائل تیار ہے۔جاتے وقت اسے اپنے ساتھ ہوٹل لے جائیے۔آرام سے اسٹڈی وسٹڈی اور سائن وائن کے بعد صبح تک اپنے ڈرائیور سے بھجوا دیجیے گا‘ تمہیں تو معلوم ہے کہ میں شروع سے انیشیل کا قائل نہیں، جہاں بھی کرتا ہوںفل ِسگ نیچر ہی کرتا ہوں۔‘‘ص:81

ناول نگار کے تخلیقی زبان و بیان پر کامل عبور کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے پورا ناول اس طرح کے تخلیقی جملوں سے بھرا ہوا ہے ۔ناول کا ٹائٹل ’لیمی نیٹڈ گرل‘ہی ناول نگار کے اختراعی ذہن رکھنے کا بین ثبوت ہے۔کسی بھی ناول کی زبان و بیان پر باتیں کرتے ہوئے اس ناول نگار کے عہد کو بھی سامنے رکھنا ہوگا  اور ناول میں جن لوگوں کی زندگیاں بیان ہوئیں ہیں ان پر بھی نظر رکھنا ہوگا ۔کیونکہ بغیر اس پر نظر رکھے ناول نگار کے فن ،کرافٹ،تزئین اور زبان کی اظہاریت ، اس کی شگفتگی یا تیز رفتاری کو گرفت میں نہیں لیا جا سکتاہے۔کیونکہ کبھی کبھی لفظ اپنے لغوی معنی سے الگ ہو کر ایک خاص طرح کے سماجی،سیاسی اور جنسی سیاق و سباق میں بدل جاتے ہیں اور اسی معنی میں استعمال ہونے لگتے ہیں ۔اس لئے قاری متن کا مطالعہ کرتے ہوئے سیاق و سباق سے اس کے معنی اور مفہوم کا تعین کر لیتا ہے ۔لیکن اگر اس سے تفہیم میں یا خیالات کے اظہار میںرکاوٹ پیدا ہو تو زبان کا ایسا استعمال یا اظہار کا ایسا اسلوب بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔اختر آزاد نے اس ناول میں جس زبان استعمال کا استعمال کیا ہے وہ اپنے لغوی معنی سے ہٹ کر ایک ایسا معنی خلق کرتا ہے جو متن کے سیاق و سباق سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔مثلاًذائقہ دار ڈش،مینو،لیگ فرائی چکن،حسن کی منڈی ،کیس ہسٹری،ریئلٹی کا انجکشن،اے ٹی ایم کارڈ،مورڈینیٹی کا کنڈوم،اینٹی وائرس ویکسین،سنہری دلدل،موسم بارش اور بھیگے بدن کا لمس،ووٹنگ سسٹم ،عورت اور لیسن پلان،اس کے علاوہ بریک فاسٹ،لنچ،ڈنر،اور کمپیوٹر کی زبان میں فائل ،فولڈر، کور لیٹر،انٹر ،اور ڈیلیٹ وغیرہ جیسی لفظیات اختر آزاد کے یہاںآکر ذو معنی ہو گئے ۔ لغوی معنی سے پرے ایک جنسی تناظر میں ایک نیا معنی  خلق کردیاہے  ۔اس لئے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مصنف نے مخلوط زبان کو ایک نئے تخلیقی سانچے میں ڈھال کر ایک طرف اکیسویں صدی کے اردو فکشن میں سب سے  الگ اپنی انفر ادی شناخت قائم کی اور دوسری طرف قاری کے لئے مذکورہ ڈکشن کو ایک نیا معنی عطا کر کے الگ لطف پیدا کیا  ہے جو ناول کے موضوع اور ماحول کے اعتبار سے ضروری بھی تھا۔اس طرح سے یہ ناول اپنے موضوع اسلوب اور جدید تکنیک کے حوالے سے اکیسویں صدی میں ایک نیا تجربہ بھی ہے اور  اضافہ بھی ۔یہ ناول دوسرے تخلیق کاروں کو ایک نئی تکنیک پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ  ناول نگار کا لہجہ کہیں کہیں خطیبانہ اور ناصحانہ ہوگیا ہے جو قاری کے جذبات و احساسات میں اشتعال انگیزی کا کام بھی کرتا ہے۔خطیبانہ لہجے اور اسلوب کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے:

’’سیاست کے ریئلٹی شوز میں امریکہ نے  دہشت گردی کا جو منچ استعمال کیا اور جس طرح کی دادا گیری اس نے ویت نام ،عراق اور فلسطین پر کی ہے۔کیا آج ویسی ہی غنڈہ گردی یورینیم کی آبزودکاری کو لے کر ایران کے ساتھ نہیں ہو رہی ہے۔ اس ریئلٹی کو دنیا کا کوئی چینل ایمانداری سے دکھانے کے لئے تیار کیوں نہیں ہے۔۔۔۔۔؟ امن کے نام پر دنیا میں جس نے سب سے زیادہ دہشت پھیلا رکھی ہے اس ملک کو تمام چینل والے دنیا کا امن پرست ملک بتانے میں شرمندگی کیوں نہیں محسوس کرتے؟ کیا ٓپ کو حیرت نہیں ہوتی؟ کیا سبھی ڈر سے اس کی پیروی کرتے ہیں ؟ جہاں ہر کسی کے خون میں شباب اور شراب کے پلیٹلیٹس موجود ہیں۔جہاں ریئلٹی کے نام پر سب سے زیادہ ریپ ہوتے ہیں۔جہاں سب سے زیادہ ٹین ایجیز لڑکیاں پرگنینٹ ہوتی ہیں۔ جہاں سب سے زیادہ ابارشن کرائے جاتے ہیں۔جہاں اسکولوں اور کالجوں میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر مورڈینیٹی کے کنڈوم بانٹ کر بیٹیوں کے محفوظ ہونے کا ڈنکا پیٹتے ہیں ۔جہاں کے کلچر میں پورنو گرافی کو قبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ اسی کلچر کے پروردہ ’ریئلیٹی شو‘ کے نام پر ہماری گنگا جمنی تہذیب میں پلی بڑھی عورتوں کو آج عظمت اور برابری کا سبق سکھارہے ہیں۔‘‘ص:135-36

    اس طرح کا لہجہ ناول کے کئی حصوں  میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں جدید تہذیب و ثقافت سے نفرت اور بیزاری کا بر ملا اظہار کیا گیا ہے۔یہ ناول سماج اور معاشرے کے تمام افراد کے لئے چشم کشا ہے بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو جدید تہذیب و ثقافت کی ظاہری اور لمحاتی چمک دمک کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے بھاگ رہے ہیں یہ ان سب کے لئے ایک تازیانہ ہے۔مغربی تہذیب و ثقافت  ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر جس تیزی سے  اپنے اثرات مرتب کر رہی ہے یہ ناول اسی کا اظہار ہے جس سے آج  ہر سنجیدہ اور با شعور شہری فکر مند نظر آتا ہے۔ریئلیٹی شو کے حوالے سے ناول نگار نے ان تمام مثبت اور منفی اثرات کی نشاندہی کی کوشش کی ہے جس سے ہمارا  مشرقی معاشرہ جوجھ رہا ہے۔اور تنویر اختر رومانی کے لفظوں میں کہ اختر آزاد  پورے ناول میں ایک فکر مند باپ، ایک فکر مند سیاستداں، ایک فکرمند تاجر، ایک فکر مند معالج ، ایک فکر مند انسان ، اور ایک فکرمند قلم کار نظر آتے ہیں۔ان تما م حیثیتو ں میں سے کسی نہ کسی حیثیت سے اختر آزاد کو ناول کے ہر باب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ناول کے تمام واقعات کو ایک ماہر اور مشاق فنکار کی طرح بحسن و خوبی سمیٹ کر ڈرامائی انداز میں کلائمکس تک پہنچایا ہے۔  ناول کا دو اختتامیہ ہے  ایک خاص قاری کے لئے اور دوسرا عام قاری کے لئے ۔یہ ایک نئی تکنیک ہے جسے اس ناول میں برتا گیا ہے ۔اس تکنیک کاا ستعمال کرتے ہوئے فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ کہانی کے انجامِ المیہ اور طربیہ  میں سے کیا پسند کرتا ہے۔یہ ناول اپنے موضوع، اسلوب، تکنیک ، زبان و بیان اور انجام کے لحاظ سے ایک منفر د اور اچھوتا ناول ہے  جس کی ادبی حلقوں میں پذیرائی بھی ہو رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امتیاز احمد علیمی،ریسرچ فیلو،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.