Author Archive

مجازکی انقلابی شاعری میں عورتوں کاتصور←

شگفتہ پروین، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی، دہلی

         اسرار الحق مجاز کا شمار ان  ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امیدوں اور آرزئوں کا چراغ جلا کر ترقی پسند خیالات کو عام کیا اور مزید یہ احساس دلایا کہ

           جگرؔمرادآبادی۔۔۔ایک رومانی شاعر←

 ڈاکٹر تجمل اسلام۔۔۔۔ بلہ پورہ شوپیان کشمیر (جموں و کشمیر ) سرینگر

اپریل ۶ ،۱۸۹۰ء کو اردو دنیا کا مایہ ناز شاعر جگر ؔ اتر پردیش کے مراداباد علاقے میں پیدا ہوا ،جو آگے چل کر جگرؔمرادآبادی کے نام سے مشہور ہوا۔شاعری کے پیچ وخم سیکھنے کے لئے انھوں 

انشائیہ کی پہچان←

                                                                                                       بلال احمد ڈار (ریسرچ اسکالر)   مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد  

            اردو ادب ہر دور میں نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے لیکن ہر دور میں شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے اس کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو ادب کے ان شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں

کرشن چندر کے افسانوں میں کشمیر اور کشمیریت←

طاہر محمود ڈار ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ

کرشن چندراپنے عہد کے ایک بہت بڑے فن کار تھے۔اردو کے افسانوی ادب میں جو نمایاں افسانہ نگار ہیں ان میں کرشن چندر کو بہت مقبولیت و شہرت حاصل رہی۔وہ زبردست خلاق ذہن رکھتے تھے۔انھوں نے تکنیک

اپنی بات←

ڈاکٹر عزیر اسرائیل

سر سید کی صد سالہ تقریبات کا دور دورہ ہے۔ ملک کے تقریباً سبھی اہم اداروں اور انجمنوں کی طرف سے سرسید کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرسید نے قوم اور اردو زبان

بکٹ کہانی کا خالق افضل پانی پتی←

پروفیسر ابن کنول صدر شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی دہلی

اردو میں عوامی شعر و ادب کی روایت بہت قدیم ہے۔ ابتدا ہی سے اردو کا رشتہ عوام سے رہا، عوام میں مقبولیت کے سبب ہی ہندوستان میں اس کی جڑیں بہت گہری ہوگئیں۔  امیر خسرو کے

ترجمہ کے چند نظری مباحث←

ڈاکٹر مشتاق احمد قادری ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی

انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقاء میں جہاں بہت سارے عوامل کارفرما رہے ہیں وہیں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ فروغ تہذیب وتمدن میں ترجمے کا بھی بہت بڑا رول رہا ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقائی

ساحرؔ لدھیانوی کی نظم نگاری←

 ڈاکٹر رحمت اللہ میر، اردولیکچرر،گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بارہمولہ، جموں و کشمیر

ہر بڑاتخلیق کار اپنی شاعری میں حیات و کائنات کی حقیقتوںاور سچائیوں کا اظہار کر کے اپنی شاعری کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت اور معنی خیز بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دائمی کامیابی و کامرانی اسی

    تنقید۔بنیادی مباحث  ←

قندیل بدر، اسسٹنٹ پروفیسر، سردار بہادر خان وومنز یونیورسٹی بلوچستان کوئٹہ،پاکستان   

(Basics Of Criticism)  تخلیقی عمل مبہم،پیچیدہ اور پراسرار عمل ہے۔اس کے ابہام،پیچیدگی اور پراسراریت کی دریافت و بازیافت ایک مشکل امر ہے۔لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر  تفکر کے در بھی وا نہ کیے

آزادؔ ، انجمن پنجاب اور اُردو ادب←

اشرف لون ،لیکچرر، گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول،زچلڈارہ، ہندوارہ

   ہندوستان میں انگریزی راج کا دبدبہ انیسویں صدی کی ابتدا ہی سے قائم ہوچکا تھا۔ بہت سی ریاستوں کے اپنے راجا تھے(حالانکہ ابھی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دہلی کے تخت پر قابض تھا) لیکن

ملک الشعراء ملا نصرتی←

ڈاکٹر شمیم سلطانہ، گلبرگہ، کرناٹک

      بہمنی سلطنت کے روبہ زوال ہوتے ہی پانچ نئی سلطنتیں عالمِ وجود میں آئیں۔ ان میں گولکنڈہ کی قطب شاہی اور بیجاپور کی عادل شاہی سلطنتوں کو دکنی ادب میں ایک منفرد مقام حاصل ہے عادل

اردو تنقید اور اسلوب احمد انصاری←

ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

اسلوب احمد انصاری (2016-1925)کی ادبی عمر تقریبا پچہتر سال پر محیط ہے۔انھوں نے اپنا پہلا مضمون’اقبال کا ذہنی ارتقا‘ کے عنوان سے لکھا تھا اور رسالہ’جامعہ‘ میں شائع ہوا تھا۔ اقبال کے ذہنی ارتقا پر لکھنے کی

دکن کے جدید شعرا ء: ایک مختصرجائزہ←

محمد عرفان ، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی ، دہلی

 عربی اور فارسی زبانوں نے مل کر اردو زبان کی ترقی و نشو نما میں اہم کردار ادا کیا ،عربی و فارسی زبان کے بغیر اردو نا مکمل ہے اور انھیں کے باہمی امتزاج سے اردو زبان

  دیباچے سے فلیپ تک : تحقیقی  و تنقیدی مطالعہ←

  احمد حسین،   ریسرچ سکالر(اردو)، وفاقی اردو یونی ورسٹی ،اسلام آباد۔ پاکستان

(From preface to flap) Prof.saifullah Khalid’s book;From preface to flap, is in a way startling writing to the literary circles.this book is a whip for those poets and writers who literarily dishonest, and it is performing the

ہندوستان میں تانیثیت کی تحریک←

شاہین ترنم، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، یونی ورسٹی دہلی، دہلی

تانیثیت کے مفہوم کوباقاعدہ تعریف کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا ’’تانیثیت‘‘ایک اصطلاح ہے اور یہ اصطلاح ایک ایسی طرزِ فکر یا طرزِ احساس یا نقطۂ نظر کے لیے استعمال کی گئی جس میں ’’عورت‘‘ کوبہ

و جو دیت کے فلسفیا نہ عقا ئد و نظر یا ت←

محمد فر ید، لیکچرار شعبئہ اردو، او پی ایف بوا ئز کا لج، ایچ ایٹ فو ر، اسلام آ باد  ، پاکستان

 (Existentialism : Theories and Philosophical Principles)                                                 ABSTRACT Existentialism: Theories and Philosophical Principles Existentialism is a philosophy of scarcity and lackness. Exixtentialism brings forth its external demerits into the form of terror, boredom, disgust, hope, crime, disappointment

جدید اردو افسانے میں وجودیت کے عناصر←

      نصرت نبی،اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمٹ زنانہ کالج مولانا آزاد  روڑ  سرینگرکشمیر

      اردومیں وجودیت اور وجودی مفکروں کامطالعہ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں جس قدر عام تھا‘مابعد جدیدیت اور تھیوری کی بحث نے اسے اب اسی قدرمدھم کردیا ہے ۔ایسا نہیںکہ یہ موضوع اب اس قدر پارینہ

جمیلہ ہاشمی کے تاریخی ناول←

  ڈاکٹر فردوس احمد بٹ، لیکچرار اردو،ہائرسکنڈری اسکول ٹاڈ،کرناہ،کپوارہ،کشمیر    

 فکشن نے ہر سطح پر تاریخ کو متاثر کیا ہے او رتاریخ بھی اس سے زیادہ فاصلے پر نظر نہیں  آتی ۔دونوں  کاتعلق واقعات کے بیان سے ہے اور ان میں  پیش کیے جانے والے واقعات کاسروکار

ٹیگور کی افسانہ نگاری اور سماجی مسائل←

 محمد شمس الدین، اسسٹنٹ ریجنل ڈائرکٹر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد

بیسویں صدی کے آغاز کو اردو افسانے کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ میں انیسویں صدی کے اختتام تک رابندر ناتھ ٹیگور (1861 – 1941) کے پچاس افسانے منظر عام پر آچکے تھے۔ ان افسانوں

عصمت چغتائی کی ناول نگاری کے نمایا ں پہلو←

عبد الرب، ریسرچ اسکالرشعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

اردو ادب میں عصمت چغتائی ایک ایسی مشہور ناول نگار ہیںجنہوں نے ترقی پسند تحریک کے دور میں ناول کے فن میں نمایاں مقام حاصل کیا۔عصمت ایک ترقی پسند فکشن نگار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اورناولوں

منٹو کے ابتدائی دور کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ←

شاہد اقبال ، ریسرچ اسکالر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

منٹو کا نام اردو افسانوی ادب میں محتاج تعارف نہیں ہے بلکہ ان کو نقادوں نے اردو افسانہ نگاری کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کیا ہے۔ منٹو نے محض ۴۳ سال کی عمر میں

ناول ’’کانچ کا بازی گر‘‘: تعارف وتفہیم←

زبیر احمد، ریسرچ اسکار دہلی یونی ورسٹی، دہلی

ناول کو زندگی کا رزمیہ کہا جاتا ہے اور ’کانچ کا بازی گر‘ ایک ایسے ہی رزمیے کا نام ہے ، جس میں زندگی کی شکست و ریخت اورانقلاب موجود ہے۔ اس ناول کا باریک بینی سے

  حقیقت و رومان کا بادشاہ۔۔۔نورشاہ ←

توصیف مجید لون ،ریسرچ اسکالر ۔اندور یونی ورسٹی ، مدھیہ پردیش

ریاست جموں و کشمیر ابتدائے اول سے ہی علوم و فنون،تہذیب و تمدن ،فکرو فلسفہ کا گہوارہ رہی ہے ۔علم ،ادب فن، موسیقی، کاریگری، فلسفہ کون سا شعبہ ہے جہاں کشمیریوں نے اپنے کارناموں کا جوہر نہ

رشید جہاں: ایک انقلابی خاتون افسانہ نگار←

ضمیراللہ ریسرچ اسکالر، شعبۂ  اردو علی گڑھ مسلم یونیور سٹی، علی گڑھ

     ڈاکٹر رشید جہاں نے جس عہد میں اپنا ادبی سفر شروع کیا وہ عہد سیاسی، سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت ہنگامہ خیز تھا۔ اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں سیاسی و سماجی

عابد سہیل کے افسانوں میں فسادات کی عکاسی←

 گلزا رحسن ریسرچ اسکالر ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی ساگر مدھیہ پر دیش

فسادات ہندوستان کاایک اہم مسئلہ رہاہے یہاں آئے دن کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی ذات پات کے نام پر فسادات ہوتے رہتے ہیں ، فسادات کو موضوع بحث بنا کر ہمارے بہت سے افسانہ نگاروں

سوانح سے سوانحی ناول تک←

محمد زاہد عمر، وفاقی اردو یونیورسٹی ، اسلام آباد

Abstract: A biography is a detailed description of a person’s life.Unlike a profile or curriculum vitae a biography presents a subject’s life story, highlighting various aspects of his or her life, including intimate details of experience and

اردوناول میں شہری محنت کش طبقہ کے مسائل کی عکاسی ـ ممبئی کے حوالے سے←

شاہنوازاحمد، ریسرچ اسکالر شعبئہ اردو،دہلی یونیورسٹی

      ہندستان میں انگریزی حکومت کے قابض ہوتے ہی ایک طرف زمیندارطبقہ کوفروغ ملاتودوسری طرف محنت کش طبقہ وجود میں آ یا۔ تقسیم ہندکے بعدمحنت کش طبقہ کومزیدبڑھاوادینے میں سرمایہ دارانہ نظام کاہاتھ رہاہے۔ سرمایہ داروں نے

مر گیا غالبؔ ِآشفتہ نوا ،کہتے ہیں←

ڈاکٹر محمد اشرف میڈیا انچارج، دہلی مائنارٹی کمیشن، دہلی

انسان کو زندگی اور اس کے تجربات کا اندازہ اسے رحم مادرسے ہی ہونا شروع ہوجاتا ہے اوروہ زندگی کی گوناگوںلذتوںسے اپنے  احساس کی حس سے دوچار ہوتا ہے ۔جس  شئے کی بھی دنیا میںتخلیق ہوئی ہے

 علامہ اقبال اور ہندوستانی تہذیب←

فیاض احمد بٹ ، ریسرچ اسکالر   اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی،کشمیر یونیورسٹی ،سرینگر

کسی بھی معاشرے کی طرز زندگی اور فکرو احساس کا نام تہذیب ہے۔لغت کی رو سے تہذیب کے معنی چھانٹنے،اصلاح کرنے،سنوارنے،درست کرنے،خالص کرنے اور پاکیزہ کرنے کے ہیں۔اصطلاح میں تہذیب سے مراد کسی قوم کی وہ طرز

علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری←

محمد محسن رضا مصباحی، ریسرچ اسکالر، جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، دہلی

نعت رسول مقبول ﷺ کا وجود اور اس کی روایت ہر زبان وادب میں ہے، ہر مذہب کے پیروکاروں نے نعت گوئی کی ہے اور جس شاعر نے بھی وصف نبی لکھاہے اس کو اپنی نجات کا

کالوبھنگی:ایک تجزیہ←

ڈاکٹر متھن کمار،اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو ، دہلی یونیورسٹی، دہلی

      زمانۂ قدیم سے ہندوستانی سماج میں ایک طبقہ ایسا رہا ہے جسے زندگی کی تمام بنیادی ضرورتوں سے محروم کردیاگیا۔اس محرومی کی ابتدا ہندوستان میں آریوں کی آمد سے ہوتی ہے۔انھیں حملہ آوروں سے ہندوستان کے

“یہ میرا چمن ہے میرا چمن۔۔۔” ایک سوانحی ناول←

ڈاکٹرعزیر احمد پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، شعبہ اردو ، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

موریشس ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی اکثریت ان تارکین وطن پر مشتمل ہے جو ہندستان اور دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے وہاں بس گئے اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی ملک

’کھودو بابا کا مقبرہ ‘   تجزیاتی مطالعہ←

          محمد افضل،           ریسرچ اسکالر،    شعبہ اردو ،الہ آباد یونیورسٹی ،الہ آباد

آزادی کے بعد اردو افسانہ بہت سی تبدیلیوں سے آشنا ہوا لیکن تبدیلی کے اس سفر میں یہ کسی بھی انتہا پسند پڑائو پر زیادہ دیر نہیں ٹھہرا،جس طرح ترقی پسند انتہا پسندی سے اس نے اپنے

کشمیری خاتون،  پروفیسر شملہ مفتی کی خود نوشت سوانح کا ایک جائزہ←

ڈاکٹر مسرت جان  (مسرف جان) لیکچرر اردو گورنمٹ ہائر سیکنڈری سکول لاری ڑورہ بارہ مولہ کشمیر

              خود نوشت سوانح بنیادی طور پر سوانح نگاری کی ایک شاخ ہے اور خود نوشت سوانح کا فن سوانح نگاری کے سایے میں پروان چڑھا ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں خود نوشت سوانح نگاری کی روایت

اُردو داستانوں میں مافوق الفطرت کردار←

طاہر نواز ،ریسرچ اسکالر شعبہ اردو ،وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون ،سائنس و ٹیکنالوجی، اسلام آباد

ABSTRACT (SUPERNATURAL CHARACTERS IN URDU DASTANS)      (Supernatural Characters are the most important part of urdu dastan. We can easily find them in every Urdu prose dastan. But in Urdu criticism they are usually neglected due to

    واجد علی شاہ کے ڈرامے اور مشترکہ تہذیب←

    رفیع الدین، ، ریسرچ اسکالر ، شعبۂ اردو، دہلی یونیور سٹی

         ہندستان ابتدا سے آپسی محبت ،اخوت،بھائی چارگی،رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے ۔پوری دنیا میں ہندستان اپنے یہاں مختلف مذاہب اور ان کی تہذیبوں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرنے کے

مارواڑ میں اردو←

مبصر: سلمان فیصل، ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ

نام کتاب:مارواڑ میں اردو مصنف:ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری صفحات:480 قیمت:282 روپے ناشر:گلوبل اردو کمپیوٹرس اینڈ پرنٹرس جے پور راجستھان مبصر:سلمان فیصل  راجستھان میں اردو کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کا سرا فارسی کے توسط سے مغل

اپنی بات←

ڈاکٹر عزیر اسرائیل، مدیر

ادبی رسالے کی اشاعت ایک صبر آزما کام  ہے۔ تین مہینے کب اور کیسے نکل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔ ایک شمارے کی اشاعت کے فورا بعد اگلے شمارے کی تیاری میں لگ جانا پڑتا ہے۔

ن۔ م۔ راشد کی شاعری-ایران میں اجنبی کے حوالے سے←

 ڈاکٹر شاہ عالم اسسٹنٹ پروفیسر، ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی

ڈاکٹر شاہ عالم اسسٹنٹ پروفیسر ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی                   ن۔م۔راشد کا دوسرا شعری مجموعہ ’ ایران میں اجنبی‘ (1955) میں شایع ہوا ۔راشد نے اپنے پہلے شعری

ڈاکٹروزیرآغاکی طویل نظمیں←

ڈاکٹرعابد خورشیدؔ،یونیورسٹی آف سرگودھا

Dr. Wazir Agha is essentially a prolific poet. His marvelous Long Poems, specially “Aadhi Sadi ke Ba`ad” and “Ek katha anokhi” are the reflection of his great thoughts and his profound command on poetry. These poems are

پروینؔ شاکرکی نظموں میں تانیثی رنگ←

ڈاکٹر فاروق احمد وانی باغوان پورہ،سنگھ پورہ پٹن بارہ مو لہ کشمیر۔

 ’’ اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ’’خالص نظم‘‘ کی ابتدا نظیر اکبرآبادی نے کی اور ’’جدید نظم‘‘ کاآغاز حالیؔ اور آزادؔ نے کیا۔ساتویں دہائی کے بعد آٹھویں دہائی کی نظم میں مابعد

ناوکؔ حمزہ پوری کی رباعیات کا تنقیدی مطالعہ←

ڈاکٹر مقبول احمد مقبولؔ ایسو سی ایٹ پروفیسر شعبۂ اردو مہاراشٹرا اودے گری کالج اودگیر۔413517 ضلع لاتور (مہاراشٹرا) 0928598414/07788443243

حمزہ پور،بہار کے ضلع گیا کا ایک چھوٹا قصبہ ہے۔یہی قصبہ سیدغلام السیدین ناوکؔ حمزہ پوری کا مولد ومسکن ہے۔ان کی تاریخِ ولادت ۲۱ اپریل ۱۹۳۳ ء ہے۔ناوک حمزہ پوری عصرِ حاضر کے بزرگ شاعر وادیب ہیں

نعت، نعت گوئی کی روایت اور نعت گو شعرا←

سعود عالم، مین مارکیٹ اوکھلا، جامعہ نگر نئی دہلی

     نعتِ رسول دراصل اصناف سخن کی وہ نازک صنف ہے جس میں طبع آزمائی کرتے وقت اقلیم سخن کے تاجدار حضرت مولانا جامیؔ نے فرمایا ہے: لا یُمکن الثناء کما کان حقّہٗ بعد از خدا بزرگ

     فیض احمد فیضؔ؛انسانی اقدار کا محافظ←

فردوس احمد میر 

Abstract:-  Human values are the principles,standards,convictions and beliefs that people adopt as their guidelines in daily activities.They are a set of consistent measures and behaviours that individuals choose to participate in the persuit of doing.Faiz Ahmad Faiz,the

غالب اور ہندوستانی تہذیب←

غلام فرید حسینی(سکالر پی ایچ ڈی، اردو) وفاقی جامعہ اردو برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی،  اسلام آباد، پاکستان

      ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے جب واقعات ایک دوسرے سے منسلک نظر آنے لگیں یعنی سبب اور نتیجہ کے اصول کے تابع ہو جائیں نیز وہ کسی خاص خطۂ زمین یا شخصیت کی نسبت سے

   اسمعیل میرٹھی بحیثیت موضوعاتی شاعر←

وسیم حسن راجا

     انجمن پنجاب کے موضوعاتی مشاعروں سے پہلے اسمعیل میرٹھی اردونظم کی موضوعاتی توسیع میں انفرادی طور پر کامیاب تجربہ کرچکے تھے۔’’ریزہ جواہر‘‘ کے عنوان سے میڑٹھی کاکلام 1880 ئ؁ میں شائع ہوا۔اسمعیل میرٹھی نے اپنی نظموں

نند لال کول کے شعری محاسن  ’’مرقع افکار‘‘ کے حوالے←

محمد یاسین گنائی، ریسرچ اسکالر، اندور

دنیا کی سب سے میٹھی اور سُریلی زبان اردو نے نہ جانے کتنے شعراء و ادباء پیدا کئے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری و نثری خدمات سے عالمِ انسانیت،سیاسی وسماجی اور معاشی مسائل،سیاحت و اقتصادیات،مناظر قدرت،تصوف،اسلامی تعلیمات،نسوانی

موجودہ طرز معاشرت اور ترجمہ←

ڈاکٹر ابو شہیم خان شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی ساگر 470003 مدھیہ پردیش

ڈاکٹر ابو شہیم خان شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی ساگر 470003 مدھیہ پردیش shaheemjnu@gmail.com Mob;07354966719                    شخصی اور عمومی اظہار اور ان

سوشل ورک کی پیشہ ورانہ اور اکیڈمک شناخت←

ڈاکٹر محمدشاہد رضا اسوسیئٹ پروفیسر و صدر شعبہ، سوشل ورک، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد

Abstract This research article discusses about the historical development and evolution of social work as a profession in UK, USA and India. The debate on the quest of professional status of social work has also been discussed

پروفیسر حامدیؔ کاشمیری کی افسانہ نگاری←

ڈاکٹر مشتاق قادریؔ ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ٔ اردو دہلی یونیورسٹی، دہلی

حامدیؔ کاشمیری کی ادبی شخصیت کی بلندی مسلم ہے وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور تنقید نگار کی حیثیت سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے ہیں

Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.