Author Archive

آپ بیتیوں میں مافوق الفطرت عناصروعوامل     (ایک مطالعہ←

ڈاکٹرمسر ت بانو، اسسٹنٹ پروفیسر ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین ،شاہ پور ضلع سرگودہا(پاکستان

Abstract: Supernatural are events or things that have been claimed to exist but can’t be explained by the laws of nature or science.It include things characteristic of or relating to ghosts, gods, witches or other types of

پاکستانی اردوفکاہی شاعری کا موضوعاتی مطالعہ (ساٹھ کی دہا ئی کے حوالے سے←

ڈاکٹر جابر حسین لیکچرار،اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء، اسلام آباد

A Themetic study of Pakistani stairical and Humorous urdu poetry  Pakistani urdu literature of the decade of 1960s is overall a reflective of the homorous and innovating scenario of the country.We can study and see the reflection

علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک←

ڈاکٹر محمد حسین، صدر شعبۂ اردو ، گورنمنٹ ڈونگر کالج، بیکانیر،راجستھان،انڈیا

      ایران میں عروض اور شاعری سے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہاں شاعری کا وجود نہ تھا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک اہم عروض داں سلیم جعفر اپنے ایک مضمون

ہریانوی اور اُردو زبان کی ثقافتی مماثلت:لسانیاتی ومساحتی مطالعہ←

ڈاکٹر عمران، اختر شعبہ اُردو،گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج خانیوال،پاکستان

Cultural Similarities of Haryanvi and Urdu Language:A linguistic study & survey Abstract: It is a sociolinguistic survey to know about the influence of cultural similarities and differences among Haryanvi and Urdu Language and its different regional languages

مولانا حسرت ؔموہانی کی نعتیہ شاعری←

ڈاکٹرمہر محمد اعجاز صابر ایسوسی ایٹ پروفیسر ؍ وائس پرنسپل اور صدر شعبۂ اُردو بلوچستان ریزیڈنشیل کا لج خضدار۔پاکستان

     مولانا حسرتؔ موہانی کی شخصیت کے کئی رُخ ہیں اور وہ ان میں سے ہر رُخ میں امتیازی صفات کے حامل دکھائی دیتے ہیں ۔ایک انسان کی حیثیت سے بھی اُن کا پلہ بھاری دکھائی دیتا

ڈرامہ ’’سچ کا زہر‘‘  ایپک تھیٹر کا ایک اہم تجربہ←

ڈاکٹر فردوس احمد بٹ، لیکچرار اردو،اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،  جموں و کشمیر

 “ایپک تھیٹر‘‘ کا آغاز جرمنی میں ۱۹۲۰ء؁ میں ہوا۔ ا س کے بانی جرمنی کے مایہ ناز اسٹیج ڈائریکٹر ارون فریڈرک میکسی ملین پسکیٹرہیں ۔جرمنی کے مشہور اسٹیج ڈائریکٹر‘ ڈراما نگار اور شاعر برٹولٹ بریخت اس کے

جگر مرادآبادی ایک رومانی شاعر←

ڈاکٹر تجمل اسلام، بلہ پورہ شوپیان کشمیر (جموں و کشمیر ) سرینگر

اپریل ۶ ،۱۸۹۰ء کو اردو دنیا کا مایہ ناز شاعر جگر ؔ اتر پردیش کے مراداباد علاقے میں پیدا ہوا ،جو آگے چل کر جگرؔمرادآبادی کے نام سے مشہور ہوا۔شاعری کے پیچ وخم سیکھنے کے لئے انھوں 

میر غلام رسول نازکی۔جموں و کشمیر میں اردو کے بنیاد گذار شاعر←

ڈاکٹرطاہر محمود ڈار، لیکچرر ۔کشمیر یونیورسٹی سری نگر

ریاست جموں وکشمیر میں اردو شاعری کے بنیاد گذاروں میں جو چند نام لیے جاتے ہیں ۔ ان میں میرغلام رسول نازکی (۱۹۱۰ء ۔۱۹۹۸ء )کا نام نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی

مولانا الطاف حسین حالیؔ اور موجودہ نظامِ تعلیم←

ندیم احمد انصاری، لیکچررشعبۂ اردو، اسماعیل یوسف کالج، ممبئی

     تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں ایسی شے ہے جس کے ذریعے ایک نسل کی عادات و اہداف دوسری نسل کو منتقل کی جاتی ہے ، خواہ تکنیکی لحاظ سے اس کے معنی فقط وہ رسمی

موریشس کے افسانہ نگار محمد حنیف کنہائی کے افسانوی مجموعہ ’اعتماد‘ کا تجزیہ←

آبیناز جان علی،موریشس

Analysis of the short story collection ‘Aetemaad’ of Mauritian short story writer Muhammad Hanif Caunhye ’اعتماد‘ سات افسانوں پر مشتمل مجموعہ ہے جو مئی ۲۰۱۴ء؁ میں انجمن فروغِ اردو کی پہل سے شائع ہوا۔ محمد حنیف کنہائی

غلام ربانی تاباں ؔ اور مجروحؔ سلطان پوریـ: ایک تقابلی مطالعہ←

محمد اخترعلی، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی

     ارون دھتی رائے کے مطابق جس ہندوستان کی اچھی خاصی آبادی ا ن پڑھ ہے، اس میں پڑھا لکھا کہلانا اور اس سے زیادہ ادیب ہونا ایک مشکوک قسم کا اعزاز ہے۔ غلام ربانی تاباں ؔ

سر سید احمد خا ن ’’مسافران لندن‘‘ کے آئینے میں ←

عبدالرحمن ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

     ادب کی تاریخ میں  چند اشخاص ہی ایسے گذرے ہیں  جو آ نے والی نسلوں کے لیے اپنے دیر پا اثرات چھوڑ جاتے ہیں ۔ اور ہر انسان ایک طویل مدت تک ان کے افکار و

میواتی شاعری میں  تصوف←

عزیز سہسولہ، ریسرچ اسکالر ۔جے این یو نئی دہلی روم نمبر ۱۰۹ ، پیریار ہاسٹل جے این یو ۔ نئی دہلی ۱۱۰۰۶۷

کگّا سب تن کھائیو، میرو چُن چُن کھائیو ماس دو نینا مت کھائیو، موئے تو پیا مِلن کی آس      تصوف کسی مذہب کا نام نہیں ہے ، تصوف نام ہے ایک خاص فلسفہ کا، ایک خاص

جدیدشاعری ایک جائزہ←

گلشن، ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی،نئی دہلی،۷

آج کا دورترقی یافتہ دور ہے۔اس ترقی یافتہ دور کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں  انسانی قدریں ،محبت،وفا،سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ہرطرف بربریت،قتل و غارت گری،دہشت گردی،ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری،خود غرضی،اور ہوس کا بازار گرم ہے۔ذات پات

امیر اللہ خاں شاہینؔ میرٹھی کی ادبی خدمات:ایک اجمالی جائزہ←

ابراہیم افسر، وارڈ نمبر 1، مہپا چوراہا، سیول خاص، میرٹھ

     سیاسی ،معاشی،صنعتی ،علمی و ادبی اعتبار سے صوبۂ اتر پردیش کاسب سے مردم خیزعلاقہ مغربی اتر پر دیش ہے اور اسی مغربی علاقہ کا تاریخی اور قدیم ضلع میرٹھ ہے۔ہڈپہ اور موہن جودڑو کے آثار قدیمہ

قصیدہ نگاری کے باب میں نقدِ ذوق کے بعض تسامحات←

اقرا سبحان ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ

شیخ محمد ابراہیم ذوق ]۱۲۰۳ ھ-۱۲۷۱ھ / ۱۷۸۸ تا ۱۸۵۴[دلی کے کابلی دروازے کے پاس ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے اور تمام عمر اسی چھوٹے سے گھر میں گذار دی۔ ذوق غریب گھرانے سے تعلق

ادب ، آزادیٔ نسواں او ر سماج←

رفیع ا لدین ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو ،دہلی یونی ورسٹی

سماج کسی ایک شخص یا کسی ایک خاندان کا نام نہیں بلکہ یہ کئی خاندان اورمعاشرے کے مختلف طبقات سے تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف مذاہب اور اقوام کی شمولیت ہوتی ہے ۔چونکہ عورت بھی اسی

اُردو کے چار شخصی مرثیے(ایک تنقیدی جائزہ←

مقبول احمد مقبول، مونگیر، مہاراشٹر

     اُردومیں مرثیہ نگاری کے ذکر کے ساتھ ہی ذہن میں جو دو نمایاں تصویریں ابھرتی ہیں وہ میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔکی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انیس ؔو دبیر ؔنے اپنے بے

شجاع خاور کی شاعری میں روایتی عناصر←

عاشق الٰہی ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی۔ دہلی

شجاع ؔخاور بیسویں صدی کے نصف آخر کے ان باکمال شاعروں میں سے ہیں جن کا کلام اپنے معاصرین شعراء سے بالکل ہٹ کر ہے اور اس کی وجہ ان کا منفرد شعری لب ولہجہ ہے۔شجاع خاور

تانیثیت : نظریات ،مغربی تناظر ات←

محمد حسین ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی

تانیثیت کی خشت اول کا سراغ مغرب میں ملتا ہے اس لیے تانیثیت کے تصور اور فلسفے کے مبادیات سمجھنے کے لیے مغربی حوالوں کو کھنگالنا ہوگا ۔تبھی اس کی اصل اور ابتدا کے ساتھ اس کے

بلونت سنگھ کے افسانوں میں تقسیم ہند کا المیہ←

محمد رضوان انصاری (ریسرچ اسکالر) شعبہء اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد

تقسیم ہند اپنی نوعیت کے ا عتبار سے بر صغیر کا ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔جہاں ایک طرف آزادی تو ملی وہیں دوسری طرف ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو ملکوں کا بٹوارہ بھی عمل

شہریار کی شاعری: ایک مطالعہ←

فضل الرحمن ریسرچ اسکالر دہلی یونی ورسٹی

  آزادی کے دس پندرہ سال بعد ہماری اردو شاعری نے نیا رنگ و آہنگ اختیار کیا۔اسے بالعموم ترقی پسند تحریک کے رد عمل کے طور پر جانا جاتا ہے۔اور اس کے نتیجے میں ایک باقاعدہ تحریک

مجتبیٰ حسین : ایک منفرد اورعہدساز انشائیہ نگار←

منظر کمال (ریسرچ اسکالر) ہندوستانی زبانوں کا مرکز،جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، دہلی

     مجتبیٰ حسین ایک بسیار نویس ادیب ہیں اور ان کی ادبی زندگی چاردہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کی بے پناہ شہرت ومقبولیت کا راز ان کے فن میں پوشیدہ ہے۔ ان کی تحریریں

ڈاکٹربرج پریمی بحیثیت نقاد←

شافعہ با نو اسکالر شعبہ اردو،کشمیر یونیورسٹی،حضرت بل سرینگر

 ڈاکٹر برج پریمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ادبی دنیا میں برج پریمی ایک مقبول افسانہ نگار، محقق اور کامیاب ناقد کی حیثیت سے قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ۔ آپ نے

مجاز کی انقلابی شاعری میں عورت کا تصور←

شگفتہ پروین ر یسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی، دہلی

اسرار الحق مجاز کا شمار ان ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امیدوں اور آرزئوں کا چراغ جلا کر ترقی پسند خیالات کو عام کیا اور مزید یہ احساس دلایا کہ

انشائیہ کی پہچان←

بلال احمد ڈار شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد

 اردو ادب ہر دور میں نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے لیکن ہر دور میں شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے اس کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو ادب کے ان شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں نے

اپنی بات←

ڈاکٹر عزیر اسرائیل

سر سید کی صد سالہ تقریبات کا دور دورہ ہے۔ ملک کے تقریباً سبھی اہم اداروں اور انجمنوں کی طرف سے سرسید کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرسید نے قوم اور اردو زبان

بکٹ کہانی کا خالق افضل پانی پتی←

پروفیسر ابن کنول صدر شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی دہلی

اردو میں عوامی شعر و ادب کی روایت بہت قدیم ہے۔ ابتدا ہی سے اردو کا رشتہ عوام سے رہا، عوام میں مقبولیت کے سبب ہی ہندوستان میں اس کی جڑیں بہت گہری ہوگئیں۔  امیر خسرو کے

ترجمہ کے چند نظری مباحث←

ڈاکٹر مشتاق احمد قادری ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی

انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقاء میں جہاں بہت سارے عوامل کارفرما رہے ہیں وہیں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ فروغ تہذیب وتمدن میں ترجمے کا بھی بہت بڑا رول رہا ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقائی

ساحرؔ لدھیانوی کی نظم نگاری←

 ڈاکٹر رحمت اللہ میر، اردولیکچرر،گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بارہمولہ، جموں و کشمیر

ہر بڑاتخلیق کار اپنی شاعری میں حیات و کائنات کی حقیقتوںاور سچائیوں کا اظہار کر کے اپنی شاعری کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت اور معنی خیز بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دائمی کامیابی و کامرانی اسی

    تنقید۔بنیادی مباحث  ←

قندیل بدر، اسسٹنٹ پروفیسر، سردار بہادر خان وومنز یونیورسٹی بلوچستان کوئٹہ،پاکستان   

(Basics Of Criticism)  تخلیقی عمل مبہم،پیچیدہ اور پراسرار عمل ہے۔اس کے ابہام،پیچیدگی اور پراسراریت کی دریافت و بازیافت ایک مشکل امر ہے۔لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر  تفکر کے در بھی وا نہ کیے

آزادؔ ، انجمن پنجاب اور اُردو ادب←

اشرف لون ،لیکچرر، گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول،زچلڈارہ، ہندوارہ

   ہندوستان میں انگریزی راج کا دبدبہ انیسویں صدی کی ابتدا ہی سے قائم ہوچکا تھا۔ بہت سی ریاستوں کے اپنے راجا تھے(حالانکہ ابھی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دہلی کے تخت پر قابض تھا) لیکن

ملک الشعراء ملا نصرتی←

ڈاکٹر شمیم سلطانہ، گلبرگہ، کرناٹک

      بہمنی سلطنت کے روبہ زوال ہوتے ہی پانچ نئی سلطنتیں عالمِ وجود میں آئیں۔ ان میں گولکنڈہ کی قطب شاہی اور بیجاپور کی عادل شاہی سلطنتوں کو دکنی ادب میں ایک منفرد مقام حاصل ہے عادل

اردو تنقید اور اسلوب احمد انصاری←

ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

اسلوب احمد انصاری (2016-1925)کی ادبی عمر تقریبا پچہتر سال پر محیط ہے۔انھوں نے اپنا پہلا مضمون’اقبال کا ذہنی ارتقا‘ کے عنوان سے لکھا تھا اور رسالہ’جامعہ‘ میں شائع ہوا تھا۔ اقبال کے ذہنی ارتقا پر لکھنے کی

دکن کے جدید شعرا ء: ایک مختصرجائزہ←

محمد عرفان ، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی ، دہلی

 عربی اور فارسی زبانوں نے مل کر اردو زبان کی ترقی و نشو نما میں اہم کردار ادا کیا ،عربی و فارسی زبان کے بغیر اردو نا مکمل ہے اور انھیں کے باہمی امتزاج سے اردو زبان

  دیباچے سے فلیپ تک : تحقیقی  و تنقیدی مطالعہ←

  احمد حسین،   ریسرچ سکالر(اردو)، وفاقی اردو یونی ورسٹی ،اسلام آباد۔ پاکستان

(From preface to flap) Prof.saifullah Khalid’s book;From preface to flap, is in a way startling writing to the literary circles.this book is a whip for those poets and writers who literarily dishonest, and it is performing the

ہندوستان میں تانیثیت کی تحریک←

شاہین ترنم، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، یونی ورسٹی دہلی، دہلی

تانیثیت کے مفہوم کوباقاعدہ تعریف کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا ’’تانیثیت‘‘ایک اصطلاح ہے اور یہ اصطلاح ایک ایسی طرزِ فکر یا طرزِ احساس یا نقطۂ نظر کے لیے استعمال کی گئی جس میں ’’عورت‘‘ کوبہ

و جو دیت کے فلسفیا نہ عقا ئد و نظر یا ت←

محمد فر ید، لیکچرار شعبئہ اردو، او پی ایف بوا ئز کا لج، ایچ ایٹ فو ر، اسلام آ باد  ، پاکستان

 (Existentialism : Theories and Philosophical Principles)                                                 ABSTRACT Existentialism: Theories and Philosophical Principles Existentialism is a philosophy of scarcity and lackness. Exixtentialism brings forth its external demerits into the form of terror, boredom, disgust, hope, crime, disappointment

جدید اردو افسانے میں وجودیت کے عناصر←

      نصرت نبی،اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمٹ زنانہ کالج مولانا آزاد  روڑ  سرینگرکشمیر

      اردومیں وجودیت اور وجودی مفکروں کامطالعہ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں جس قدر عام تھا‘مابعد جدیدیت اور تھیوری کی بحث نے اسے اب اسی قدرمدھم کردیا ہے ۔ایسا نہیںکہ یہ موضوع اب اس قدر پارینہ

جمیلہ ہاشمی کے تاریخی ناول←

  ڈاکٹر فردوس احمد بٹ، لیکچرار اردو،ہائرسکنڈری اسکول ٹاڈ،کرناہ،کپوارہ،کشمیر    

 فکشن نے ہر سطح پر تاریخ کو متاثر کیا ہے او رتاریخ بھی اس سے زیادہ فاصلے پر نظر نہیں  آتی ۔دونوں  کاتعلق واقعات کے بیان سے ہے اور ان میں  پیش کیے جانے والے واقعات کاسروکار

ٹیگور کی افسانہ نگاری اور سماجی مسائل←

 محمد شمس الدین، اسسٹنٹ ریجنل ڈائرکٹر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد

بیسویں صدی کے آغاز کو اردو افسانے کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ میں انیسویں صدی کے اختتام تک رابندر ناتھ ٹیگور (1861 – 1941) کے پچاس افسانے منظر عام پر آچکے تھے۔ ان افسانوں

عصمت چغتائی کی ناول نگاری کے نمایا ں پہلو←

عبد الرب، ریسرچ اسکالرشعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

اردو ادب میں عصمت چغتائی ایک ایسی مشہور ناول نگار ہیںجنہوں نے ترقی پسند تحریک کے دور میں ناول کے فن میں نمایاں مقام حاصل کیا۔عصمت ایک ترقی پسند فکشن نگار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اورناولوں

منٹو کے ابتدائی دور کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ←

شاہد اقبال ، ریسرچ اسکالر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

منٹو کا نام اردو افسانوی ادب میں محتاج تعارف نہیں ہے بلکہ ان کو نقادوں نے اردو افسانہ نگاری کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کیا ہے۔ منٹو نے محض ۴۳ سال کی عمر میں

ناول ’’کانچ کا بازی گر‘‘: تعارف وتفہیم←

زبیر احمد، ریسرچ اسکار دہلی یونی ورسٹی، دہلی

ناول کو زندگی کا رزمیہ کہا جاتا ہے اور ’کانچ کا بازی گر‘ ایک ایسے ہی رزمیے کا نام ہے ، جس میں زندگی کی شکست و ریخت اورانقلاب موجود ہے۔ اس ناول کا باریک بینی سے

  حقیقت و رومان کا بادشاہ۔۔۔نورشاہ ←

توصیف مجید لون ،ریسرچ اسکالر ۔اندور یونی ورسٹی ، مدھیہ پردیش

ریاست جموں و کشمیر ابتدائے اول سے ہی علوم و فنون،تہذیب و تمدن ،فکرو فلسفہ کا گہوارہ رہی ہے ۔علم ،ادب فن، موسیقی، کاریگری، فلسفہ کون سا شعبہ ہے جہاں کشمیریوں نے اپنے کارناموں کا جوہر نہ

رشید جہاں: ایک انقلابی خاتون افسانہ نگار←

ضمیراللہ ریسرچ اسکالر، شعبۂ  اردو علی گڑھ مسلم یونیور سٹی، علی گڑھ

     ڈاکٹر رشید جہاں نے جس عہد میں اپنا ادبی سفر شروع کیا وہ عہد سیاسی، سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت ہنگامہ خیز تھا۔ اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں سیاسی و سماجی

عابد سہیل کے افسانوں میں فسادات کی عکاسی←

 گلزا رحسن ریسرچ اسکالر ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی ساگر مدھیہ پر دیش

فسادات ہندوستان کاایک اہم مسئلہ رہاہے یہاں آئے دن کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی ذات پات کے نام پر فسادات ہوتے رہتے ہیں ، فسادات کو موضوع بحث بنا کر ہمارے بہت سے افسانہ نگاروں

سوانح سے سوانحی ناول تک←

محمد زاہد عمر، وفاقی اردو یونیورسٹی ، اسلام آباد

Abstract: A biography is a detailed description of a person’s life.Unlike a profile or curriculum vitae a biography presents a subject’s life story, highlighting various aspects of his or her life, including intimate details of experience and

اردوناول میں شہری محنت کش طبقہ کے مسائل کی عکاسی ـ ممبئی کے حوالے سے←

شاہنوازاحمد، ریسرچ اسکالر شعبئہ اردو،دہلی یونیورسٹی

      ہندستان میں انگریزی حکومت کے قابض ہوتے ہی ایک طرف زمیندارطبقہ کوفروغ ملاتودوسری طرف محنت کش طبقہ وجود میں آ یا۔ تقسیم ہندکے بعدمحنت کش طبقہ کومزیدبڑھاوادینے میں سرمایہ دارانہ نظام کاہاتھ رہاہے۔ سرمایہ داروں نے

مر گیا غالبؔ ِآشفتہ نوا ،کہتے ہیں←

ڈاکٹر محمد اشرف میڈیا انچارج، دہلی مائنارٹی کمیشن، دہلی

انسان کو زندگی اور اس کے تجربات کا اندازہ اسے رحم مادرسے ہی ہونا شروع ہوجاتا ہے اوروہ زندگی کی گوناگوںلذتوںسے اپنے  احساس کی حس سے دوچار ہوتا ہے ۔جس  شئے کی بھی دنیا میںتخلیق ہوئی ہے

Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.