Author Archive

علی سردار جعفری کے افسانے←

پروفیسر ابن کنول، صدر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی۔ انڈیا۔

شمالی ہندوستان میں اردو زبان و ادب کے لیے گزشتہ تین صدیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں مغلیہ سلطنت کی بنیادیں ہلنے لگی تھیں، لیکن اردو شاعری کے زرّیں دور کا آغاز ہوگیا تھا۔ انیسویں

اندر سبھا کا یہود-اردومخطوطہ←

پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی، صدر شعبۂ اردو، جئے پرکاش یو نی ورسٹی، چھپرہ

          یہود- اردو :         31 جولائی 2007 ء کو ڈاکٹر نور سو برس خان نے برٹش لائبریری کی ویب سائٹ پہ اس کے مخطوطہ نمبر Or. 13287 کے حوالے سے ایک نوٹ پیش کیا تھا۔ اس

اکبر کی شاعری کی خصوصیات←

ڈاکٹر ناصرہ سلطانہ شعبئہ اردو دہلی یونیورسٹی

اکبر کا نام نامی اسم گرامی سید اکبر حسین اکبر تھا۔ ان کا تعلق یوپی کے معزز اور خوشحال خانوادے سے تھا۔ ان کے والد محترم کا نام سید تفضیل حسین تھا۔ اکبر ۱۶ نومبر ۱۸۴۶؁ء بہ

احمد فرازؔ کی شاعری میں محبوب کا تصور←

ڈاکٹرآفتاب عرشیؔ,سینٹرل یونیورسٹی حیدرآباد، انڈیا

مَیں اُس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فرازؔ یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری      احمدفرازؔ کی شاعری کا خمیر عشقِ مجازی سے ا ُٹھا ہے ، جو فرازؔ کے یہاں ایک قوت کے

انجمن پنجاب اور جدید اردو نظم کی تحریک←

ڈاکٹر محمد افضل،گیسٹ فیکلٹی (اردو )   شعبۂ اردو ،الہ اآباد یونیورسٹی ،الہ آباد

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب معاشرہ تغیر و تبدل کی منزل سے گزرتا ہے تو اس سے متعلق انسانی ذہن بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتااور جب انسانی ذہن و دماغ میں تبدیلیوں کا

عصمت چغتائی نسائی ادب اور  باغیانہ سماجی حقیقت پسندی کی علمبردار←

ڈاکٹر قمر الحسن, اسسٹنٹ پروفیسر، شعبئہ اردو ،ستیہ وتی کالج دہلی یونی ورسٹی

        بیسویں صدی میں عالمی سطح پراعلیٰ معیارکا ایسا ادب پیدا ہوا جونوآبادیاتی، محکومی، نسلی تفریق، سیاسی جبر، طبقاتی استحصال، جنسی نابرابری یا طبقہ نسواں کے ساتھ زبردستی، توہم پرستی یا تہذیبی امورمیں غیرعقلی

منشی پریم چند کے افسانوں میں سیاسی شعور←

ڈاکٹر تحسین بی بی, صدر شعبہ اُردو،  ویمن یونیورسٹی صوابی ، پاکستان

   Fiction & Short Story of Prem Chand not only reflects the political, cultural and social conflicts but alsoare a positive and best example for having a great step of reform and revolution. Either there is his

کلاسیکیت: تعریف، دائرۂ کار اور عصرِ نو کے تقاضے←

نازیہ امام، ریسرچ اسکالر، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

زندگی اور کائنات کے تقریباََ تمام ہی شعبوں میں کلاسیکیت ، جدّت اور اس قبیل کی دوسری اصطلاحیں رائج ہیں۔ انھیں بالعموم مخالف رویّے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ کلاسیکیت اقدارِ قدیم میں یقین کرنے

تقسیم ہند ،عورت اور اردو فکشن←

محمد یٰسین گنائی، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، پنجابی یونی ورسٹی

                انسان اشرف المخلوقات کی تاریخ میں روزِاول سے ہی مختلف واقعات وحادثات رونما ہوتے رہے ہیں اور یہ سفر تاحال مسلسل جاری ہے۔مسلم تاریخ میں حضرت آدم اور ہوا کا جنت سے زمین کا سفر ہو

اردو ادب کے دوراولین کی شاعرات←

سروری خاتون، ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ

          امیر خسرو اردو کے اولین بنیاد گذاروں میں سے ایک ہیں،جن کی گوناگوں صفات اور علمی خدمات کا زمانہ معترف ہے،امیر خسرو کے کلام میں اردو کے کچھ الفاظ ملتے ہیں جسے اردو کا نقش اول

مختلف اقوام ومذاہب میں عورت کی حیثیت←

سفینہ عرفات فاطمہ، ریسرچ اسکالر، مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی، حیدرآباد

ہردورمیں مظلومی اورمحکومی عورت کا مقدررہی ہے ۔اس کے حصہ میں روشنی کبھی نہیںآئی ‘وہ اذیت اور ذلت کابوجھ اٹھائے تاریکیوںکے جنگلوں میں بھٹکتی رہی ہے۔(نور ِ اسلام سے قبل) کہیںصنفی امتیاز کے سبب اسے زندہ دفن

اردو مثنوی اور جدید شاعری←

 محمد یعقوب راتھر،  ریسرچ اسکالر ادارۂ اقبالیات برائے ثقافت و فلسفہ    کشمیر یونیورسٹی ،حضرت بل سری نگر۔۱۹۰۰۰۶

     ۱۸۵۷ کے انقلاب میں سیاسی طور پر شکست کھانے کے بعد قوم و ملت نفسیاتی طور پر الجھن کی شکار ہو گئی۔ مغربی اور مشرقی اقدار کے ٹکراؤ سے سیاسی، سماجی اور معاشی توازن بگڑنے

اردو زبان کے ارتقا میں سرکاری اداروں کا کردار:ایک جائزہ←

مدنی اشرف، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

        برٹش حکومت کے شروعاتی دورمیں سرکاری زبان کا درجہ فارسی زبان کو حاصل تھا۔کیوں کہ انگریزوں نے ہندوستانی سلطنت مغلیہ حکومت سے چھینی تھی اور مغلوں کی زبان چونکہ فارسی تھی اس لیے حکومتی کام کاج

کلام میر میں’سکندر‘جاہ وحشمت کا ایک استعارہ←

عبد الرحمن جمال الدین، ریسرچ اسکالر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

سکندر یونان کا باشندہ تھا، باپ کی جانب سے ’کرنس‘ اور ماں کی طرف سے’ نوبطلیموس‘ کے توسط سے اس کا نسب ’ایقوس‘ تک پہنچتا ہے، اس کے باپ ’فلپس‘ کا زمانہ شباب ’ ساموتھریس‘ میں گذرا

خلیل الرحمن اعظمی:جدید غزل کا پیش رو←

فردوس احمد میر، اننت ناگ، کشمیر

               خلیل الرحمن اعظمی (۱۹۲۷ء ۔۱۹۷۸ئ)جدید غزل کے بنیاد گزاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے جدید دور کے اضطراب کو اپنی غزلوں میں پیش کرکے شاعری میں داخلیت کے عناصر کو پھر سے اجاگر

ناول’’لیمی نیٹدگرل‘‘موضوع ا ور اسلوب کا ایک نیا باب←

امتیاز احمد علیمی،ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرے اور دوسری دہائی کے نصف عشرے کی تخلیقات پر نظر ڈالنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صدی فکشن کی صدی ہے۔اس صدی کے موضوعات بیسویں صدی کے موضوعات

ممتاز مفتی کا جہانِ ادب←

بلال احمد تانترے، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،دہلی

ممتازمفتی(۱۹۰۵۔۱۹۹۵)اردوادب کاایک معتبرنام ہے۔ انھیںاردوادب کی تاریخ میںمتعددوجوہ کی بنا پرایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔انھوں نے اردو ادب کو نہ صرف موضوعات کی سطح پر نئے امکانات سے روشناس کیا بلکہ اپنی فکرو نظرکی گہرائی اور تخیّل

اقبال کے تعلیمی تصورات←

محمدشفیق عالم، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو،جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، دہلی

علامہ اقبال ملت اسلامیہ کے ان افراد میں سے ہیں جو ہماری تاریخ کا حصہ ہیں اور جن کا کام اس لیے فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے ملت کے افتخار کی بحالی کاکام کیاہے۔ جس

پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ بحیثیت اقبالؔ شناس  ←

 سید مصطفیٰ شاہ، ریسرچ اسکالر، اقبالؔ انسٹیچوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی ، یونیورسٹی آف کشمیر

علاّمہ اقبال ؔ کی ہمہ گیر شخصیت نے علم و ادب اور فن کی دنیا کو آفاقی سطح پر متاثر کیا ہے۔آپ کے کلام نے ان کے عہد میں ہی محققّین اور ناقدین فن کو اپنی طرف

تلاش وتعبیر کا اجمالی جائزہ←

عادل احسان، ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

         رشید حسن خاں نے دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں ،بربادیوں اور ہو لناکیوں کے پر آشوب دور کے بعد اپنی علمی زندگی کا آغاز کیا ۔یہ وہ زمانہ تھا جس میں ادب

مظہر الاسلام کا فکشن اور نمائندہ کہانیوں کا انتخاب←

مبصر:  عمران عراقی (ریسرچ اسکالر) شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

 نام کتاب: مظہر الاسلام کا فکشن اور نمائندہ کہانیوں کا انتخاب مصنف: محمد غالب نشتر صفحات: 296  ، قیمت: 500/- ،  سنہ اشاعت: 2016 ناشر:  براؤن بُک پبلی کیشنز، نئی دہلی، 110025 مبصر:  عمران عراقی (ریسرچ اسکالر)

آپ بیتیوں میں مافوق الفطرت عناصروعوامل     (ایک مطالعہ←

ڈاکٹرمسر ت بانو، اسسٹنٹ پروفیسر ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین ،شاہ پور ضلع سرگودہا(پاکستان

Abstract: Supernatural are events or things that have been claimed to exist but can’t be explained by the laws of nature or science.It include things characteristic of or relating to ghosts, gods, witches or other types of

پاکستانی اردوفکاہی شاعری کا موضوعاتی مطالعہ (ساٹھ کی دہا ئی کے حوالے سے←

ڈاکٹر جابر حسین لیکچرار،اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء، اسلام آباد

A Themetic study of Pakistani stairical and Humorous urdu poetry  Pakistani urdu literature of the decade of 1960s is overall a reflective of the homorous and innovating scenario of the country.We can study and see the reflection

علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک←

ڈاکٹر محمد حسین، صدر شعبۂ اردو ، گورنمنٹ ڈونگر کالج، بیکانیر،راجستھان،انڈیا

      ایران میں عروض اور شاعری سے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہاں شاعری کا وجود نہ تھا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک اہم عروض داں سلیم جعفر اپنے ایک مضمون

ہریانوی اور اُردو زبان کی ثقافتی مماثلت:لسانیاتی ومساحتی مطالعہ←

ڈاکٹر عمران، اختر شعبہ اُردو،گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج خانیوال،پاکستان

Cultural Similarities of Haryanvi and Urdu Language:A linguistic study & survey Abstract: It is a sociolinguistic survey to know about the influence of cultural similarities and differences among Haryanvi and Urdu Language and its different regional languages

مولانا حسرت ؔموہانی کی نعتیہ شاعری←

ڈاکٹرمہر محمد اعجاز صابر ایسوسی ایٹ پروفیسر ؍ وائس پرنسپل اور صدر شعبۂ اُردو بلوچستان ریزیڈنشیل کا لج خضدار۔پاکستان

     مولانا حسرتؔ موہانی کی شخصیت کے کئی رُخ ہیں اور وہ ان میں سے ہر رُخ میں امتیازی صفات کے حامل دکھائی دیتے ہیں ۔ایک انسان کی حیثیت سے بھی اُن کا پلہ بھاری دکھائی دیتا

ڈرامہ ’’سچ کا زہر‘‘  ایپک تھیٹر کا ایک اہم تجربہ←

ڈاکٹر فردوس احمد بٹ، لیکچرار اردو،اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،  جموں و کشمیر

 “ایپک تھیٹر‘‘ کا آغاز جرمنی میں ۱۹۲۰ء؁ میں ہوا۔ ا س کے بانی جرمنی کے مایہ ناز اسٹیج ڈائریکٹر ارون فریڈرک میکسی ملین پسکیٹرہیں ۔جرمنی کے مشہور اسٹیج ڈائریکٹر‘ ڈراما نگار اور شاعر برٹولٹ بریخت اس کے

جگر مرادآبادی ایک رومانی شاعر←

ڈاکٹر تجمل اسلام، بلہ پورہ شوپیان کشمیر (جموں و کشمیر ) سرینگر

اپریل ۶ ،۱۸۹۰ء کو اردو دنیا کا مایہ ناز شاعر جگر ؔ اتر پردیش کے مراداباد علاقے میں پیدا ہوا ،جو آگے چل کر جگرؔمرادآبادی کے نام سے مشہور ہوا۔شاعری کے پیچ وخم سیکھنے کے لئے انھوں 

میر غلام رسول نازکی۔جموں و کشمیر میں اردو کے بنیاد گذار شاعر←

ڈاکٹرطاہر محمود ڈار، لیکچرر ۔کشمیر یونیورسٹی سری نگر

ریاست جموں وکشمیر میں اردو شاعری کے بنیاد گذاروں میں جو چند نام لیے جاتے ہیں ۔ ان میں میرغلام رسول نازکی (۱۹۱۰ء ۔۱۹۹۸ء )کا نام نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی

مولانا الطاف حسین حالیؔ اور موجودہ نظامِ تعلیم←

ندیم احمد انصاری، لیکچررشعبۂ اردو، اسماعیل یوسف کالج، ممبئی

     تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں ایسی شے ہے جس کے ذریعے ایک نسل کی عادات و اہداف دوسری نسل کو منتقل کی جاتی ہے ، خواہ تکنیکی لحاظ سے اس کے معنی فقط وہ رسمی

موریشس کے افسانہ نگار محمد حنیف کنہائی کے افسانوی مجموعہ ’اعتماد‘ کا تجزیہ←

آبیناز جان علی،موریشس

Analysis of the short story collection ‘Aetemaad’ of Mauritian short story writer Muhammad Hanif Caunhye ’اعتماد‘ سات افسانوں پر مشتمل مجموعہ ہے جو مئی ۲۰۱۴ء؁ میں انجمن فروغِ اردو کی پہل سے شائع ہوا۔ محمد حنیف کنہائی

غلام ربانی تاباں ؔ اور مجروحؔ سلطان پوریـ: ایک تقابلی مطالعہ←

محمد اخترعلی، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی

     ارون دھتی رائے کے مطابق جس ہندوستان کی اچھی خاصی آبادی ا ن پڑھ ہے، اس میں پڑھا لکھا کہلانا اور اس سے زیادہ ادیب ہونا ایک مشکوک قسم کا اعزاز ہے۔ غلام ربانی تاباں ؔ

سر سید احمد خا ن ’’مسافران لندن‘‘ کے آئینے میں ←

عبدالرحمن ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

     ادب کی تاریخ میں  چند اشخاص ہی ایسے گذرے ہیں  جو آ نے والی نسلوں کے لیے اپنے دیر پا اثرات چھوڑ جاتے ہیں ۔ اور ہر انسان ایک طویل مدت تک ان کے افکار و

میواتی شاعری میں  تصوف←

عزیز سہسولہ، ریسرچ اسکالر ۔جے این یو نئی دہلی روم نمبر ۱۰۹ ، پیریار ہاسٹل جے این یو ۔ نئی دہلی ۱۱۰۰۶۷

کگّا سب تن کھائیو، میرو چُن چُن کھائیو ماس دو نینا مت کھائیو، موئے تو پیا مِلن کی آس      تصوف کسی مذہب کا نام نہیں ہے ، تصوف نام ہے ایک خاص فلسفہ کا، ایک خاص

جدیدشاعری ایک جائزہ←

گلشن، ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی،نئی دہلی،۷

آج کا دورترقی یافتہ دور ہے۔اس ترقی یافتہ دور کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں  انسانی قدریں ،محبت،وفا،سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ہرطرف بربریت،قتل و غارت گری،دہشت گردی،ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری،خود غرضی،اور ہوس کا بازار گرم ہے۔ذات پات

امیر اللہ خاں شاہینؔ میرٹھی کی ادبی خدمات:ایک اجمالی جائزہ←

ابراہیم افسر، وارڈ نمبر 1، مہپا چوراہا، سیول خاص، میرٹھ

     سیاسی ،معاشی،صنعتی ،علمی و ادبی اعتبار سے صوبۂ اتر پردیش کاسب سے مردم خیزعلاقہ مغربی اتر پر دیش ہے اور اسی مغربی علاقہ کا تاریخی اور قدیم ضلع میرٹھ ہے۔ہڈپہ اور موہن جودڑو کے آثار قدیمہ

قصیدہ نگاری کے باب میں نقدِ ذوق کے بعض تسامحات←

اقرا سبحان ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ

شیخ محمد ابراہیم ذوق ]۱۲۰۳ ھ-۱۲۷۱ھ / ۱۷۸۸ تا ۱۸۵۴[دلی کے کابلی دروازے کے پاس ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے اور تمام عمر اسی چھوٹے سے گھر میں گذار دی۔ ذوق غریب گھرانے سے تعلق

ادب ، آزادیٔ نسواں او ر سماج←

رفیع ا لدین ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو ،دہلی یونی ورسٹی

سماج کسی ایک شخص یا کسی ایک خاندان کا نام نہیں بلکہ یہ کئی خاندان اورمعاشرے کے مختلف طبقات سے تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف مذاہب اور اقوام کی شمولیت ہوتی ہے ۔چونکہ عورت بھی اسی

اُردو کے چار شخصی مرثیے(ایک تنقیدی جائزہ←

مقبول احمد مقبول، مونگیر، مہاراشٹر

     اُردومیں مرثیہ نگاری کے ذکر کے ساتھ ہی ذہن میں جو دو نمایاں تصویریں ابھرتی ہیں وہ میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔکی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انیس ؔو دبیر ؔنے اپنے بے

شجاع خاور کی شاعری میں روایتی عناصر←

عاشق الٰہی ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی۔ دہلی

شجاع ؔخاور بیسویں صدی کے نصف آخر کے ان باکمال شاعروں میں سے ہیں جن کا کلام اپنے معاصرین شعراء سے بالکل ہٹ کر ہے اور اس کی وجہ ان کا منفرد شعری لب ولہجہ ہے۔شجاع خاور

تانیثیت : نظریات ،مغربی تناظر ات←

محمد حسین ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی

تانیثیت کی خشت اول کا سراغ مغرب میں ملتا ہے اس لیے تانیثیت کے تصور اور فلسفے کے مبادیات سمجھنے کے لیے مغربی حوالوں کو کھنگالنا ہوگا ۔تبھی اس کی اصل اور ابتدا کے ساتھ اس کے

بلونت سنگھ کے افسانوں میں تقسیم ہند کا المیہ←

محمد رضوان انصاری (ریسرچ اسکالر) شعبہء اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد

تقسیم ہند اپنی نوعیت کے ا عتبار سے بر صغیر کا ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔جہاں ایک طرف آزادی تو ملی وہیں دوسری طرف ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو ملکوں کا بٹوارہ بھی عمل

شہریار کی شاعری: ایک مطالعہ←

فیض الرحمن، ریسرچ اسکالر دہلی یونی ورسٹی

  آزادی کے دس پندرہ سال بعد ہماری اردو شاعری نے نیا رنگ و آہنگ اختیار کیا۔اسے بالعموم ترقی پسند تحریک کے رد عمل کے طور پر جانا جاتا ہے۔اور اس کے نتیجے میں ایک باقاعدہ تحریک

مجتبیٰ حسین : ایک منفرد اورعہدساز انشائیہ نگار←

منظر کمال (ریسرچ اسکالر) ہندوستانی زبانوں کا مرکز،جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، دہلی

     مجتبیٰ حسین ایک بسیار نویس ادیب ہیں اور ان کی ادبی زندگی چاردہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کی بے پناہ شہرت ومقبولیت کا راز ان کے فن میں پوشیدہ ہے۔ ان کی تحریریں

ڈاکٹربرج پریمی بحیثیت نقاد←

شافعہ با نو اسکالر شعبہ اردو،کشمیر یونیورسٹی،حضرت بل سرینگر

 ڈاکٹر برج پریمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ادبی دنیا میں برج پریمی ایک مقبول افسانہ نگار، محقق اور کامیاب ناقد کی حیثیت سے قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ۔ آپ نے

مجاز کی انقلابی شاعری میں عورت کا تصور←

شگفتہ پروین ر یسرچ اسکالر، شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی، دہلی

اسرار الحق مجاز کا شمار ان ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امیدوں اور آرزئوں کا چراغ جلا کر ترقی پسند خیالات کو عام کیا اور مزید یہ احساس دلایا کہ

انشائیہ کی پہچان←

بلال احمد ڈار شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد

 اردو ادب ہر دور میں نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے لیکن ہر دور میں شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے اس کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو ادب کے ان شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں نے

اپنی بات←

ڈاکٹر عزیر اسرائیل

سر سید کی صد سالہ تقریبات کا دور دورہ ہے۔ ملک کے تقریباً سبھی اہم اداروں اور انجمنوں کی طرف سے سرسید کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرسید نے قوم اور اردو زبان

بکٹ کہانی کا خالق افضل پانی پتی←

پروفیسر ابن کنول صدر شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی دہلی

اردو میں عوامی شعر و ادب کی روایت بہت قدیم ہے۔ ابتدا ہی سے اردو کا رشتہ عوام سے رہا، عوام میں مقبولیت کے سبب ہی ہندوستان میں اس کی جڑیں بہت گہری ہوگئیں۔  امیر خسرو کے

ترجمہ کے چند نظری مباحث←

ڈاکٹر مشتاق احمد قادری ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی

انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقاء میں جہاں بہت سارے عوامل کارفرما رہے ہیں وہیں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ فروغ تہذیب وتمدن میں ترجمے کا بھی بہت بڑا رول رہا ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقائی

Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.