Author Archive

اپنی بات←

اردو ریسرچ جرنل کا گیارہواں شمارہ پیش خدمت ہے اس شمارے میں ہم نے  کئی اہم موضوعات پر اردو کے اہم قلم کاروں کے مضامین کو  شائع کیا ہے۔  ہماری کوشش رہی ہے کہ جرنل کے معیار

قرآن، سائنس اور سائنسی مزاج۔ماضی، حال اور مستقبل←

انسانی مزاج تین عناصر کا مرکب ہے۔ اوّل وہ نسلی خواص جو کسی شخص میں اس کے والدین کی جانب سے منتقل ہوتے ہیں۔ دوم اس کی تربیت اور ماحول اور سوم اس کی تعلیم۔ ان تینوں

داغ دہلوی:  خطوط کے آئینے میں←

خط انسان کی زندگی کا وہ آئینہ ہے جس میں  ان کی شخصیت کے تمام پہلو مختلف انداز میں سامنے آجاتے ہیں۔مکتوب سے نہ صرف مکتوب نگار کی شخصیت اور ان کی ظاہری و باطنی کیفیت کا

مصحفیؔ کے شعری امتیازات←

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ(۱۷۴۸ء۱۸۲۴ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرزاہ بکھرگیا تودلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں

اُردو میں غزلِ مسلسل کی روایت اور فن←

عربی قصیدے نے زمانہء جاہلیت میںعروج و اِرتقا کی منزلیں طے کی تھیں۔ اسی ایک صنفِ سخن پر ساری عربی شاعری مشتمل تھی۔ پھر اِسلام کی ابتدا ہوئی اور اسلامی اقدارِ حیات کی اِشاعت و مقبولیت نے

آفاقی اقدار کا شاعر:خلیل الر حمن اعظمیؔ :نظم نگاری کے حوالے←

خلیل الر حمن اعظمیؔ اُردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔انہوں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ نظم نگاری، غرل گوئی ـ، ہجو گوئی، خاکہ نگاری اور تنقید نگاری وغیرہ۔لیکن شاعری اور تنقید نگاری

اردو لسانیات:  ایک تعارف←

زبان سے متعلق سنجیدگی سے غور کرنے کا سلسلہ ابتدائی زمانے سے چلا آرہا ہے۔مذہبی مفکروں کے شانہ بہ شانہ اہل علم حضرات جیسے افلاطون اور ارسطو نے بھی زبان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار

تخلیق و تنقید کا باہمی ربط تحقیقی مطالعہ←

Abstract: The world of Arts is an imaginary one where concept and feelings merged together but there in another domain of art which comprised much of an intellectual effort.Creativity and criticism have a relation which is more

اردو  اورترکی  زبان کا تقابلی مطالعہ←

(یہ مقالہ ڈاکٹر فرزانہ  اعظم  لطفی صاحبہ استاد شعبہ  اردو ، تہران یونی ورسٹی کی نگرانی میں لکھا گیا۔) تمہید  : دنیا کی اکثر زبانوں   میں  الفاظ  کی یکسانیت کوئی  نئی بات نہیں  ۔ کبھی کبھا ر

محمد احسن فاروقی کے ناولوں میں ہیرو کا تصور←

’’شام اودھ‘‘ اور ’’سنگم‘‘محمد احسن فاروقی کے نمائندہ ناول ہیں۔ہیروانہ تصور کی بحث میں بھی یہی ناول کارآمد نظر آتے ہیں۔ ’’شام اودھ‘‘ کی فضا جس تہذیب سے مرتب ہوتی ہے اس میں رجعت اور جدت کے

داستان’’طلسمِ حیرت‘‘؛مابعد الطبیعیاتی مطالعہ←

ABSTRACT: Metaphysics is the Universal fact which is deep rooted in human civilization.Social sciences are based on metaphysics and literature generates from society.So is the way that literature and metaphysics co-incide.In Urdu literature, such Tales, which have

میرزا ادیب کے طویل افسانے __فکریات ورجحانات←

میرزا ادیب کی افسانہ نگاری کا ابتدائی غالب رجحان طویل رومانی افسانے ہیں جن کی فضا اور اسلوب داستانی ہے۔ اُن کے طویل افسانوں پر مبنی تین مجموعے اور ایک طویل افسانہ شائع ہوئے۔ ’’صحرا نورد کے

کرشن چندر بحیثیت افسانہ نگار←

کرشن چندر کی شخصیت تعارف کی مختاج نہیں انھوں نے اُردو فکشن کے سرمائے میں بیش ہا اضافے کئے۔انکی زبان میں رس اور جادو ہے۔گھلاوٹ، حلاوت اور بیاہے جانے ولی کیفیت ہے ۔انکی تخلیقات میں حسن کی

کرشن چندر کے ناولوں میں نسوانی مسائل←

 ساری دنیا میں عورتوں کو کم وبیش ایک ہی نظر سے دیکھا اور جانا جاتا ہے۔ ان کے استحصال کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے ہر جگہ اورہر دور میں قائم رہا ہے، جنہیں وقت نے مختلف طور

حسین بن منصور حلاج اور سد ھا رتھ میں فکر ی مماثلت:  تحقیقی و تنقید ی جا ئز ہ←

Abstract: The Critical Analysis regarding Comparison of Intellectual Leitmotifs of Hussain Bin Mansoor Hillaj and Siddhartha Novel Dasht-E-Soos is comprised of Hussain’s life while novel Siddhartha discusses the life of Gotham. Both the novels are about the

رانا پرمود: ابن صفی کا لازوال منفی کردار←

ابن صفی جن کو ہم جاسوسی ناول نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں انھوں ایک طویل عرصے تک جاسوسی ناول لکھے ہیں۔اپنے تخلیقی سفر کے دوران ابن صفی نے بے شمار کردار تخلیق کیے ہیں ان کرداروں

راجندر سنگھ بیدی کے ناولٹ ’’ایک چادر میلی سی‘‘میں پنجابی تہذیب←

ادب انسانی لاشعور کی تکمیلیت کا ذریعہ ہے جو شعور کے صفحوں پربکھر کر انسانی ضمیر کو جھنجوڑتا ہے جس سے ہر ادیب یا تخلیق کار کے مافی الضمیر کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول یا سماج

اردو تلمیحات کا حکائی پس منظر←

تلخیص اردوادب میں یوں تو بہت سی ترکیبیں، استعارے، مثالیں، تعبیریں اور بہت کچھ بوقت ضرورت شامل ہوتا گیاجس کی اپنے اپنے وقت میں بہت اہمیت رہی اور ان سے اردو ادب کا دامن مالامال ہوتا گیا۔

اردو داستان میں محبت کی نفسیات←

ABSTRACT (PSYCHOLOGY OF LOVE IN URDU DASTAN) (Romantic Love is the major element of urdu prose dastan. It is so much necessary that even a single dastan is not completed with out romantic love. The description of

تحریک سر سید کا سیاسی ومعاشرتی پس منظر←

سر سید احمد خاں کا شمار ان جینیس با بصیرت اور یگانہ روزگار شخصیات میں ہے جو صفحۂ ہستی پر کبھی کبھی نمودار ہوتی ہیں اور نامساعد حالات اور ناسازگار ماحول کے باوجود اپنی ندرت فکر و

سر سید کے تعلیمی افکار، مکاتیب سر سید کی روشنی میں←

 اردو زبان وادب کے معماروں میں سر سید کا نام ایک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔سرسید اور ان کے رفقانے اردو زبان وادب کو جدید نثر کا تحفہ عطا کیا، سر سید کے رفقا کی تعلیم و

ترقی پسندی ومارکسی تصورات کے تناظر میں مواد وموضوع کی تقدیم←

فن وادب کی گتھیوں کو سمجھنے اورپرکھنے کامسئلہ محض مواد اور ہیئت کوسمجھنے کامسئلہ نہیں ہے بلکہ دونوں کی وحدت ویکسوئی سے اٹھنے والی اس حظ او رکیف وسرور ان فکری وحسی تصورات وکیفیات کو سمجھنے کامسئلہ

کلام نظیر کے انگر یزی تراجم←

 ڈاکٹر ابو شہیم خان شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی ساگر 470003 مدھیہ پردیش                 shaheemjnu@gmail.com Mob;07354966719#  انیسو یں صدی کے اواخر اور بیسویں

علامہ راشد الخیری- محض مصور غم؟←

ابتدائیہ: علامہ راشد الخیری اردو کے منجھے ہوئے افسانہ نگار و ناول نگار تھے اردو ادب میں افسانے کا آغاز، بقول بعضے، انہی سے ہوتا ہے(۱)۔ وہ بیک وقت ادیب، مصلح، سیرت نگار، سوانح نگار، مبصّر اور

اردوغزل کا تحقیقی  جائزہ←

تلخیص: غزل اُردو ۔ فارسی یا عربی کی ایک صنفِ سُخن ہے۔جس کے پہلے دو مِصرے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے لیے پہلے ریختہ لفظ  استعمال میں  تھا۔( امیر خسروؒ نے موسیقی کی راگ کو

اردوکالم نویسی میں قاسمی کا اختصاص←

                احمد ندیم قاسمی دنیا ئے ادب میں تعارف کے محتاج نہیں ہیں انھوں نے اردو ادب میں مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور انھوں نے ناول، افسانے،ڈرامے، صحافت، تنقید، اور کالم نگاری میں اہم کارنا

اردومیں بچوں کاسائنسی ادب ایک مطالعہ←

ہرزمانہ کی سائنس اور ٹکنالوجی اس دور کے تقاضوں اور ضرورتوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں ،ان ٹکنالوجی کو سمجھ کر ان کی برکتوں سے لطف اندوز ہونا اور اس کو استعمال میں لاناایک ترقی یافتہ

تانیثیت اور مئیوٹ گروپ تھیوری←

دنیا جسے عورت کے نام سے جانتی ہے، صدیوں سے ٹھگی گئی ہے ۔ آج گر اسے کچھ آزادی حاصل بھی ہے تو اتنی ہی جتنی کہ سرمایہ داروں اور پدرسری نظام کے فائدے کے لیے ضروری

سرسیّد اور صحافت←

              17اکتوبر 1817ء، یہ وہ تاریخ اور سال ہے جس میں ہندوستانی مسلمانوں کی سسکتی زندگی کو علم و عرفان کا آبِ حیات پلانے والے سرسیّد احمد خاں کا وجودِ مسعود

’چوتھی کا جوڑا‘اصلاح کا ایک پہلو←

ڈاکٹرانور سدید اردو ادب کی ’مختصر تاریخ ‘ میں   لکھتے ہیں  ’۔’عصمت چغتائی کی شہرت میں عظمت کم اورحیرت زیادہ ہے‘‘۔عصمت نے اپنے افسانوں میں رشید جہاں کے جذبات واحساسات کی نسوانی بغاوت کو پروان چڑھایااوراپنے افسانوں

 اردو افسانہ اور دیہات←

 بقول احمد ندیم قاسمی:  ’’ تیری نظروں میں تو دیہات ہیں فردوس مگر  میں نے دیہات میں اُجڑے ہوئے گھر دیکھے ہیں  میں سمجھتا ہوں مہاجن کی تجوری کا راز  میں نے دہقان کی محنت کے ثمر

اردو افسانہ اور مرزا عظیم بیگ چغتائی کی افسانہ نگاری←

انسان کے پاس جب وقت تھاتو وہ فرصت سے لمبے لمبے واقعات ، پریوں کی کہانیاں ، دیومالائی عناصر م جادونگری اور دوسرے ایسے مافوق الفطرت عناصرکو سننے میں بڑی دلچسپی لیتا تھا اور ان مافوق الفطرت

راجند سنگھ بیدی اور ایک چادر میلی سیا←

راجندر سنگھ بیدی بنیادی طور پر ترقی پسند افسانہ نگار ہیں۔کرشن چندر ،منٹو، عصمت چغتائی جیسے مشہور افسانہ نگاروں میں بیدی کا شمار ہوتا ہے۔بیدی افسانہ نگاروں کی فہرست میں تو پیش پیش نظر آتے ہیںلیکن ناول

امیرشریعت سادسؒ:نقوش وتاثرات←

نام کتاب:امیرشریعت سادسؒ:نقوش وتاثرات مولف:محمدعارف اقبال قیمت : پانچ سو روپئے(500) ضخامت : 684صفحات ناشر:شعبہ نشرواشاعت مدرسہ امدادیہ،لہریاسرائے، دربھنگہ مبصر:محمدشارب ضیاء رحمانی امیرشریعت سادس حضرت مولاناسیدنظام الدین علیہ الرحمۃ کواللہ نے دینی امورمیں درک عطافرمایاتھااوردینی اداروں کوحسنِ

اپنی بات←

’اردو ریسرچ جرنل‘ کا نواں شمارہ پیش خدمت ہے ۔ پچھلے شماروں کی طرح اس بار بھی تحقیق وتنقید کے علاوہ ’رفتار ادب‘ ،’خراج عقیدت‘، ’اقبالیات‘ اور ’غالبیات‘ کالم کے تحت تحقیقی مقالے شامل کیے گئے ہیں۔

اخترالایمان کی شاعری کا فکری پس منظر←

بیسویں صدی  کے نمائندہ شاعروں  میں اخترالایمان کو منفرد مقام حاصل ہے۔ روشِ عام سے ہٹ کر انھوں نے جس طرز کی شاعری کو رواج دیا اس سے ہمارے اجتماعی مذاق کو مانوس ہونے میں دیر لگی۔

تر جمہ : ایک تہذ یبی و لسانی مفا ہمہ
ڈاکٹر ابو شہیم خان←

   ڈاکٹر ابو شہیم خان*  تمام علمی و ادبی کار ناموں کی طرح ترجمے کا بھی راست تعلق ترسیل اور ابلاغ سے ہے  ۔ ترسیل اور ابلاغ کو موثر ،بلیغ اور مفرح بنانا اور بنائے رکھنا ہمیشہ

”منور خاں غافل، اوراقِ گم گشتہ”
ڈاکٹر زاہرہ نثار←

ڈاکٹر زاہرہ نثار* منور خاں غافل ولد صلابت خاں صاحبِ دیوان شاعر تھا۔ لکھنؤ میں پیدا ہوا اور یہیں نشوونما پائی۔ اُسے زمانۂ طالب علمی سے ہی شعر موزوں کرنے کی صلاحیت ودیعت ہو چکی تھی۔ یہاں

اُردو اور پنجاب کا باہمی رشتہ       ←

محمد عرفان* پنجاب ہندوستان کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ مختلف ادوار میں اس خطے کا نام تبدیل ہو کر اب ”پنجاب” نام سے جانا جاتا ہے جو کہ فارسی زبان کے دو لفظوں ”پنج” اور ”آب”

اردو میں اشاریہ سازی کی اہمیت     ←

غلام نبی کمار* اشاریہ سازی ایک مستقل فن ہے ۔کتابیات کی طرح اشاریہ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اشاریہ سازی کے فن کو عمو ماً رسائل و جرائد کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے ۔ لیکن اشاریہ

”دشت سوس”  ۔۔ فکشن اور تاریخ کا انوکھا امتزاج
ڈاکٹرفردوس احمد بٹ←

ڈاکٹرفردوس احمد بٹ*             جمیلہ ہاشمی اردوادب کی ایک مایہ ناز فکشن نگار ہیں۔ افسانہ نویسی اور ناول نگاری کو انہوں نے اپنا خاص میدان بنایا او ر ان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ انہیں

قمر جمالی بحیثیت ڈراما نگار:ایک جائزہ
محمد کامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ←

            اردو ادب میں قمر جمالی کی پہچان ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ قمر جمالی کے افسانوں کے دو مجموعے ”شبیہ” ا ور ”سبوچہ” شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے طرز تحریر میں

مشتاق احمد یوسفی کی ظرافت نگاری
حافظ سید عبدالکریم رضوان←

بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے لے کر اکیسویں صدی کے موجودہ دورمیںاردو کے طنزیہ ومزاحیہ ادب میں جو مقبول نام گردش کر رہے ہیں ان میں ایک نام مشتاق احمد یوسفی کا بھی ہے۔ مشتاق احمد

پریم چند کے خطوط:ایک تنقیدی نظر←

 ڈاکٹر عبدالکریم* مدن گوپال نے کلیات پریم چند کی جلد سترہ میں پریم چند کے تمام خطوط کو یکجا کیا ہے۔ دیباچے میں ان تمام مشکلات کا تذکرہ بھی کیا ہے جو ان خطوط کو یکجا کرنے

اکیسویں صدی اور عصمت کی افسانہ نگاری کی معنویت←

شہناز یوسف* عصمت چغتائی کا نام آتے ہی ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ ایساکیا رہ باقی رہ گیا جس پر قلم اٹھا کر عصمت کی تخلیق کے مانند ہی لوگوں کو چونکا دیا جائے۔ یہ

حالی سے قبل اردو تنقید کی روایت←

محمد ایاز خان٭ اردو کے بیشتر نقادوں اور اہل ِ نظر کا خیال ہے کہ اردو تنقید کاباقاعدہ آغاز حالی کے مقدمہ شعر و شاعری سے ہوا جو1893میں شائع ہوا۔یہ بات درست ہے مگر یہ بھی حقیقت

شبلی نعمانی کا تنقیدی زاویہ بحوالہ موازنۂ انیس و دبیر←

 روحی سلطانہ٭ ارددادب میں شبلی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جو بیک وقت نظریہ ساز نقاد بھی ہیںاور سیرت نگار بھی ،وہ منفرد شاعر بھی ہیں انشاء پرداز بھی ، تاریخ نویس بھی ہیں اور علم

کلیم الدین احمدکا تصور نقد اور نقد شعر  ←

  شاکرعلی صدیقی٭ کلیم الدین احمد(1907ئ-1983ئ)کی تنقیدی تحریر کا باضابطہ آغاز1939ء میں گل نغمہ کے مقدمہ سے ہوا۔اسی مقدمہ میں ان کی زبان قلم سے رسوائے زمانہ جملہغزل نیم وحشی صنف شاعری ہے  منظر عام پر آیا۔

پروفیسر محمد حسن: بحیثیت نقاد        ←

 شمیم اختر٭ آزادی کے بعد کے مشاہیر ادب میں پروفیسر محمد حسن کا نام کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں جن دانشوروں نے اردو ادب کے گیسو سنوارے ہیں ان میں پروفیسر

ترقی پسند تنقید اوراردوفکشن       ←

    محمد سلمان بلرام پوری٭ ترقی پسندتحریک سے قبل اردومیں مختصرافسانہ نگاری کے دوواضح میلانات ملتے ہیں ایک حقیقت نگاری اور اصلاح پسندی کاجس کی قیادت پریم چندکررہے تھے اوردوسرارومانیت اورتخیل پرستی کاجس کی نمائندگی سجادحیدریلدرم
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.